پشاور/لاہور/اسلام آباد/ پارٹی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں کے پرتشدد مظاہروں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے۔ جمعرات کو اے آر وائی نیوز کی خبروں کے مطابقسابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف خیبرپختونخوا، پنجاب، اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں میں جمعرات کو مسلسل تیسرے روز بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس میں سات افراد ہلاک ہوگئے۔کے پی پولیس کے ترجمان کے مطابق پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں 7 افراد جاں بحق جب کہ 106 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس ترجمان نے مزید کہا کہ "ہلاکتیں پشاور، کوہاٹ اور دیر میں رپورٹ ہوئی ہیں۔”پشاور پولیس نے دعویٰ کیا کہ پشاور میں تشدد کے دوران دو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، چار سٹیشن ہاؤس آفیسرز اور چار کانسٹیبل زخمی ہوئے۔بدھ کو سینکڑوں پرتشدد مظاہرین نے پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ کیا۔ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل طاہر حسین نے بتایا کہ پشاور میں سرکاری میڈیا کی عمارت پر پی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہرین نے حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے نیوز روم اور ریڈیو سٹیشن کے دیگر حصوں میں تباہی مچا دی۔انہوں نے کہا، "شرپسند نیوز روم اور ریڈیو آڈیو روم میں داخل ہوئے اور اندر موجود فرنیچر کو آگ لگا دی،” انہوں نے مزید کہا کہ ہجوم نے دفتر کے عملے پر بھی حملہ کیا۔ریڈیو پاکستان کی عمارت میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی، شرپسندوں نے کیمروں، مائیکروفون اور دیگر دفتری سامان سمیت سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور لوٹ مار کی۔پرتشدد مظاہرین نے منگل کو بھی ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ کیا۔ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں نے حکام کو اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو تعینات کرنے پر مجبور کیا۔














