واشنگٹن۔28؍ اپریل/ امریکہ نے جمعرات کو پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی( کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننا چاہیے۔پاکستان میں محکمہ خارجہ کی انچارج، الزبتھ ہورسٹ نے دہشت گردی سے ہزاروں جانوں کے ضیاع اور متاثر ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "انخلاء کے بعد اس سلسلے میں پاکستان اور امریکہ کا تعاون جاری ہے۔ہورسٹ نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ طالبان کو اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے کیونکہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔محکمہ خارجہ کی اہلکار نے کہا کہ دونوں ممالک علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات پر مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران سیکیورٹی تعلقات میں بہتری آئی ہے، انسداد دہشت گردی کے ورکنگ گروپ کی ملاقات بھی ہوئی جبکہ اس دوران درمیانی سطح کے دفاعی مذاکرات بھی ہوئے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے ساتھ پاکستان کے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ہورسٹ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن میں مقیم قرض دہندہ کی طرف سے مطلوبہ اصلاحات کو نافذ کرے۔دونوں فریق اس معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے جنوری کے آخر سے متعدد شرائط پر اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے سخت بات چیت میں مصروف ہیں جس میں دوست ممالک سے بیرونی مالی اعانت بھی شامل ہے۔ہورسٹ نے کہا، "پاکستان اور آئی ایم ایف نے جن اصلاحات پر اتفاق کیا ہے وہ آسان نہیں ہے، لیکن یہ بہت اہم ہے کہ پاکستان ملک کو دوبارہ مالیاتی بنیادوں پر واپس لانے، مزید قرضوں میں جانے سے بچنے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے کے لیے یہ اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی معاشی حالت پر تشویش ہے، اس نے بحران زدہ ملک کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات ایک دوسرے اور دنیا کے لئے سود مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت نو ارب سے زائد ہے اور اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، سلامتی اور علاقائی سلامتی سمیت متعدد شعبوں میں قریبی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے ہورسٹ نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان امریکہ گرین الائنس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔














