شہباز شریف کا از خود فوجی سربراہ کی تقرری کرنے کا اعلان
اسلام آباد، 11 نومبر (ایجنسیز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دائر درخواست کو خارج کر دیا ہے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ مسٹر عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے کیونکہ ان کی ایک ناجائز بیٹی ہے۔ اس معاملے کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے زرداری اور چودھری کی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ مسٹر عمران خان کا ذاتی معاملہ ہے ۔ اس طرح کے معاملات درخواست گزاروں کا وقت ضائع کرتے ہیں اور عوام کے اپنے منتخب نمائندوں پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔ دریں اثناءوزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ وہ خود آرمی چیف کی تقرری کریں گے اور اس معاملے میں کسی دبا¶ کے سامنے نہیں جھکیں گے ۔ وزیراعظم نے یہ فیصلہ لندن میں اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شریف برادران نے مبینہ طور پر لندن میں ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ وزیراعظم تمام اہم تقرریاں کریں گے اور کسی بھی صورت میں کسی دبا¶ کے سامنے نہیں جھکیں گے ۔ یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے دبا¶ کے بعد کیا گیا، جنہوں نے نئے آرمی چیف کی تقرری اور پارلیمانی انتخابات کے قبل از وقت اعلان کا مطالبہ کیا تھا۔ شریف برادران نے مسٹر خان کا وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ وزیر اعظم بدھ کو مصر سے واپسی کے دوران لندن میں رکے تھے ۔ دریں اثناءمسلم لیگ (ن) کے سپریم لیڈر نواز شریف کو مبینہ طور پر پانچ سال کی مدت کا سفارتی پاسپورٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔ نواز شریف کے پاسپورٹ کی میعاد گزشتہ سال 16 فروری کو ختم ہو گئی تھی۔ دریں اثناءبرطانوی عدالت نے ڈیلی میل ہرجانہ معاملے میں وزیراعظم شہبازشریف کی حکم امتناع کی درخواست خارج کرتے ہوئے مزید وقت دینے سے انکارکر دیا۔













