لندن، 16 ستمبر (یو این آئی) برطانوی مقننہ کے چند اراکین نے چین کو ایغور اقلیتی طبقے کی نسل کشی کا ’مجرم‘ قرار دیتے ہوئے ملکہ الیزابتھ دوئم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے چین کو بھیجے گئے دعوت نامے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس کمیونسٹ ملک کو مدعو کرنا انتہائی حیران کن قدم ہے۔?برطانیہ کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی ٹوری کے سینئر لیڈران ٹم لاٹن اور سر ایان ڈنکن اسمتھ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے خارجہ سکریٹری کو خط لکھ کر اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔چینی صدر شی جن پنگ ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کےلیے مدعو مہمانوں کی فہرست میں شامل ہیں، تاہم ان کی شرکت کا امکان نہیں ہے۔ مسٹر جن پنگ اس ہفتے قزاخستان اور ازبکستان کے دورے پر ہیں۔ چین میں کووڈ-19 کی وبا شروع ہونے کے بعد وہ پہلی بار چین سے باہر جا رہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم لِز ٹروس کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ یہ شاہی محل کے لیے مہمانوں کی فہرست تیار کرنے کے لیے تھا اور جن ممالک کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی تعلقات ہیں انہیں اپنے مندوب بھیجنے کی دعوت دی گئی تھی۔دریں اثنائ ، ساو?تھ چائنا مارننگ پوسٹ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ نائب صدر وانگ کیشان کے ملکہ کی آخری رسومات میں شریک ہونے کی امید ہے۔بدھ کے روز چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔














