روایتی حریف فائربندی کا معاہدہ کرینگے: روس
معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جائیں گے: فرانس
یراون/: ۳۱ ستمبر (ایجنسیز) آرمینیا کی حکومت نے کہا ہے کہ منگل کو آزربائیجان کے ساتھ سرحد پر جھڑپوں میں اس کے 50 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ دونوں ہمسایوں کے درمیان ہونے والی یہ دو سال کی بدترین جھڑپیں ہیں۔ دوسری جانب روس نے امید ظاہر کی ہے کہ روایتی حریف ممالک جلد ہی فائربندی کے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جبکہ فرانس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جائے گا۔ صدر ایمانوئیل میکخواں کا کہنا ہے کہ ’فرانس موجودہ صورت حال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے رکھے گا، جو اس وقت اس کی صدارت رکھتا ہے۔‘ رپورٹ کے مطابق ا?رمینیا کے وزیراعظم نکول پیشنیان نے منگل کو ہلاکتوں کے حوالے سے بتایا کہ ’یہ حتمی تعداد ہیں ہے۔‘ اسی طرح ترکی نے تازہ جھڑپوں کے بعد آرمینیا کو آذربائیجان کے خلاف ’اشتعال انگیز کارروائیاں‘ روکنے کا کہا ہے۔ ترکی کے وزیرخارجہ میولوت چاوش نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیحون بائراموف سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’آرمینیا کو چاہیے وہ اشتعال انگیز کارروائیاں روک دے اور آذربائیجان کے ساتھ امن اور تعاون کے لیے جاری مذاکرات پر توجہ دے۔‘ آرمینیا نے عالمی رہنماوں سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آذربائیجان کی افواج آرمینیا کے علاقوں میں پیش قدمی کر رہے تھے جس کے بعد مہلک جھڑپیں ہوئیں۔ واضح رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے ناگورنو کاراباخ کے علاقے پر تنازع چلا ا?رہا ہے اور ان دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان پیر کی سب ہونے والی جھڑپیں 2020 کی جنگ کے بعد ایک بڑا واقعہ ہے۔ آرمینیا کی وزارت خارجہ نے منگل کو کہا کہ ’آذربائجان کی فورسز آرٹلری، ٹرینچ مارٹرز اور ڈرونز کے ذریعے تسلسل کے ساتھ فوجی اور شہری عمارات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ دشمن ہمارے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کر رہا ہے۔‘














