وادی کا جموں سے براہ راست ریل رابطہ ابھی تک شروع نہیں ہوسکا ہے ۔پہلے بتایا جارہا تھا کہ اس سال مارچ کے آخر تک وادی کا جموں سے براہ راست ریل رابطہ شروع ہوگا لیکن کل ہی شمالی ریلوے کے ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ مارچ کی ڈیڈ لائین میں توسیع کردی گئی ہے اور اب اگست ستمبر میں سرینگر اور جموں کے درمیان براہ راست ریل چلے گی ادھر سوپور سے کپوارہ تک ریلوے لائین بچھانے کے لئے ابتدائی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور یہ ایک اچھی خبر ہے کیونکہ جیسا کہ ان ہی کالموں میں پہلے بھی بتایا جاچکاہے کہ کسی بھی خطے کا دوسرے علاقوں سے ریل رابطہ قایم ہونے کا مطلب یہ اس خطے کی خوشحالی اور اقتصادی ترقی یقینی بن رہی ہے اور یہی سب کچھ یہاں بھی ہونے والا ہے ۔جب سے شمالی ریلویز نے یہاں ریلوے لائین بچھانے کا سلسلہ شروع کیا ہے تب سے تقریباً بیس برس ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک سرینگر کا جموں کے ساتھ براہ راست ریل رابطہ قایم نہیں کیا جاسکا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریلوے لائین دشوار گذار پہاڑی دروں سے بچھانی تھی اس کے لئے زبردست محنت و مشقت ،مزدور،کاریگر ،مشینری اور پیسوں کے ساتھ ساتھ ماہرین کی ضرورت تھی جس پر شمالی ریلویز کھری اتری اور اس نے سرینگر یعنی وادی تک ریلوے لائین بچھانے کے لئے ہر وہ کام کیا جو اس کے دائیرہ اختیار میں تھا اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بانہال سے سنگلدن تک ریلوے لائین بچھادی گئی یعنی بانہال سے مزید 48کلو میٹر دور تک ریلوے لائین بچھائی گئی ۔ریلوے ٹرائیل بھی ہوئی اور ریل سروس کا باضابطہ آغاز بھی ہوا یعنی ہم آہستہ آہستہ جموں تک براہ راست ریل سروس شروع کرنے کے ضمن میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔جب وادی کا جموں سے براہ راست ریل رابطہ قایم ہوگا تو سرینگر جموں شاہراہ پر بوجھ میں کمی ہوگی کیونکہ اس وقت اس پر زبردست بوجھ ہے ۔پھر ریلوے اس پر ساٹھ سے ستر فی صدتک بوجھ کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے لیکن بشرطیکہ شمالی ریلویز اس کے لئے مقرر کردہ ڈیڈلائین کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگی۔حالیہ برفباری کے بعد سرینگر جموں شاہراہ پر چار دن تک گاڑیوں کی آمد ور فت بند رہی اور اگر ریل سروس شروع ہوئی ہوتی تو لوگوں کو سہولیات ملتیں لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہورہا ہے ۔ادھر سوپور سے کپوارہ تک ریلوے لائین بچھانے کے سلسلے میں ابتدائی کام شروع کیا جارہا ہے جس سے پوری وادی کے لوگوں کو سفر کے حوالے سے بھر پور سہولیات میسر ہوسکتی ہیں ۔یہ سب ابھی تک شمالی کشمیر کے لئے ہی کیا جارہا ہے جبکہ ریلوے لائین کو گاندربل ،کنگن سے سونہ مرگ تک وسعت دینے کی مانگ بھی کی جانے لگی ہے کیونکہ اس طرح اس طرف رہنے والے لوگ بھی ریلوے سفر سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔بہر حال فی الحال اتنا ہی کافی ہے کہ پہلے وادی کا جموں سے براہ راست ریل رابط قایم ہوجاے تو اس کے بعد ہی وادی میں ریلوے پٹری کو وسعت دینے اور اسے دوسرے علاقوں تک پھیلانے کا منصوبہ شروع کیا جاسکتاہے جو آہستہ آہستہ تکمیل کے مراحل سے گذر کر اختتام پذیر ہوسکتاہے ۔وادی کا جموں سے ریل رابطہ قایم ہوتے ہی اس روٹ پر سفر کرنے والوں کو زبردست سہولیات مل سکتی ہیں۔













