بدترین معاشی بحران کی خبرداری، فصلوں کی کاشت کیلئے کھاد خریدنے کا عزم
کولمبو: ۰۲ مئی (ایجنسیز) سری لنکا میں بدترین معاشی بحران جاری ہے اور وزیراعظم نے غذائی قلت سے متعلق خبردار کیا ہے۔ سری لنکن حکومت نے اگلے سیزن کی فصلوں کی کاشت کیلئے کھاد خریدنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ برس اپریل میں صدر گوتابیا راجاپکسا نے ہر قسم کی کیمیائی کھاد پر پابندی عائد کی تھی جس سے فصلوں کی پیداوار میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی۔ ہر چند کہ حکومت نے یہ پابندی ختم کر دی ہے تاہم تاحال بیرون ملک سے کھاد کی درآمد کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے۔ وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رواں سیزن مئی تا اگست کھاد کی خریداری کیلئے ممکن نہ ہو تاہم اگلے سیزن ستمبر تا مارچ کھاد کے بہتر سٹاک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں ہر ایک سے یہ مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ صورتحال کی سنگینی کو قبول کیا جائے۔‘ صدر راجاپکسا نے جمعے کو کابینہ میں 9 نئے وزرا کو شامل کرنے کی منظوری دی جن میں صحت، تجارت اور سیاحت کے وزیر شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے انتہائی اہم خزانے کی وزارت کے لیے کوئی نام نہیں دیا جس کے بعد یہ امکان ہے کہ وزیراعظم وکرم سنگھے ہی اس وزارت کو دیکھیں گے۔ سیاحت پر دارومدار رکھنے والے سری لنکا کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے جہاں غیرملکی زرمبادلہ، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت ہے جبکہ معاشی سرگرمی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ دارالحکومت کولمبو کی پٹاح مارکیٹ میں سبزیاں اور پھل فروخت کرنے والی 60 سالہ اے پی ڈی سومناواتھی نے کہا کہ ’زندگی کی حالیہ مشکلات کے بارے میں بات کرنے کا فائدہ نہیں۔ میں نہیں بتا سکتی کہ اگلے دو ماہ میں کیا ہوگا شاید ہم یہاں بھی نہ ہوں۔‘ قریب ہی ایک لمبی قطار میں شہری کھانا پکانے کے لیے گیس کے سلنڈرز خریدنے کو کھڑے ہیں۔ اپریل میں جس گیس سلنڈر کی قیمت دو ہزار 675 تھی اب بڑھ کر پانچ ہزار روپے ہو گئی ہے۔














