سونیا گاندھی کے ای ڈی کے سامنے پیش ہونے کےخلاف ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، ۷۲جولائی (یو این آئی) نیشنل ہیرالڈ معاملے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے سامنے پیش ہونے کےخلاف کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ اور لیڈروں نے بدھ کے روز بھی احتجاج کیا جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ اور لیڈران پرامن احتجاج کر رہے تھے ، لیکن پولیس انہیں بسوں میں کہاں لے گئی اس کی معلومات کسی کو نہیں ہے ۔ اس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے سوال کیا کہ 1053 روپے کا سلنڈر کیوں؟ دہی اور اناج پر جی ایس ٹی کیوں؟ سرسوں کا تیل 200 روپے کیوں؟۔مہنگائی اور بے روزگاری پر سوال پوچھنے پر ‘راجہ’ نے 57 ممبران پارلیمنٹ کو گرفتار کیا اور 23 ایم پی کو معطل کیا۔ ‘راجہ’ کو جمہوریت کے مندر میں سوالوں سے ڈرلگتا ہے لیکن ہم ‘تاناشاہی ’سے لڑنا جانتے ہیں۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کھلم کھلا انتقام کی سیاست کا مظاہرہ کر رہی ہے اور حقوق کی بات کرنے والوں اور حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھانے والوں کی آواز کو دبا رہی ہے ۔احتجاج کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی حراست کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے مسٹررمیش نے کہا، تیسرے دن کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ جو وجے چوک پر پرامن احتجاج کر رہے تھے اور قانون کی پاسداری کر رہے تھے ، انہیں بھگوان جانے کہاں لے جایا گیا؟ ۔ ایسا کرکے ہندوستان میں جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے ۔













