نئی دلی۔/موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج ‘فضلات کی ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی تبدیلی 2025’کے عنوان سےری سائیکلنگ اینڈ انوائرمنٹ انڈسٹری ایسوسی ایشن آف انڈیا (آر ای آئی اے آئی) کے زیر اہتمام ایک روزہ کانکلیو کا افتتاح کیا ۔مرکزی وزیر نےافتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ، ‘‘ہندوستان میں سالانہ تقریبا 62 ملین ٹن فضلہ پیدا ہوتا ہے ، جس میں پلاسٹک ، الیکٹرانک اور مضر صحت فضلات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ لو ، بناؤ اور ٹھکانے لگاؤ کے روایتی لائنیئر اقتصادی ماڈل اب پائیدار نہیں ہے ۔ کوڑے دانوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ ، قدرتی وسائل کی کمی ، اور کوڑے کو بلا روک ٹوک ٹھکانے لگانے کے طریقے سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے ۔ سرکلر اکانومی صرف ایک متبادل نہیں ہے ؛بلکہ یہ ناگزیر ہے ۔ اس سے بنیادی تبدیلی کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ہم مواد کی پیداوار ، استعمال اور بندوبست کیسے کرتے ہیں ۔ ’’ انہوں نے کہا کہ اچھی طرح سے کام کرنے والی سرکلر معیشت نہ صرف قدرتی وسائل کا تحفظ کرتی ہے بلکہ صنعتی اختراع ، اقتصادی مسابقت اور روزگار کے مواقع کو بھی فروغ دیتی ہے ۔جناب بھوپیندریادو نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان فضلہ کے روایتی نظم سے ہٹ کر فضلات سے حصول دولت کی پہل کے ذریعے ری سائیکلنگ کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی سمت میں بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ‘‘سرکلر اکانومی کا مستقبل میں اہم کردار ہے جس میں پروڈکٹ ڈیزائن سے لے کر اینڈ آف لائف مینجمنٹ تک ہر مرحلے پرفضلے کو کم کرنا ، دوبارہ استعمال کرنا اور ری سائیکلنگ شامل ہے ۔ فضلہ کو بوجھ کے طور پر نہیں بلکہ وسیلہ کے طور پر برتاجانا چاہیے ۔ اقتصادی استحکام ، ماحولیاتی پائیداری اور سماجی تحفظ کے حصول کے لیے پائیدار طریقوں کو اپنانا بہت ضروری ہے ۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ سال 2050 تک ہندوستان کی سرکلر معیشت کی مارکیٹ ویلیو 2 کھرب ڈالر ہونے اور ایک کروڑ ملازمتیں پیدا ہونے کی امید ہے ۔ یہ اسٹارٹ اپس اور نئے ری سائیکل شدہ مصنوعات سازوں کے لیےبڑا موقع ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ترقی کو ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے ، جس میں فطرت کے موثر ری سائیکلنگ سسٹم سے تحریک حاصل کرناچاہیے کیونکہ کوئی بھی فردفطرت کی طرح ری سائیکل نہیں کرتا ہے ۔جناب بھوپیندریادو نے ملک میں قائم ری سائیکلنگ کی صنعتوں سے اپیل کی کہ وہ قدرتی وسائل پر انحصار کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے درکار اہم معدنیات کی درآمدات کو کم کرنے کے لیے نئی جدید ٹیکنالوجیز تیار کرے اور انہیں اپنائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘سرکلر اکانومی کے اصولوں کو اپنانے سے زبردست اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں ۔ وسائل کی کارکردگی کی طرف یہ منتقلی آتم نربھر بھارت کے ہمارے قومی وژن کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ہم آہنگ ہے ،جس سے عالمی منڈیوں میں ہندوستانی صنعتوں کی مسابقت کو بہترکیاجاسکتا ہے۔














