نئی دہلی ْحکومت نے ملک کے ہونہار طلباءکو مالی مدد فراہم کرنے کےلئے پردھان منتری ودیا لکشمی یوجنا شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت طلباءکو 10 لاکھ روپے تک کا قرض دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج یہاں منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس سلسلے میں ایک تجویز کو منظوری دی گئی۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ سال 2024-25 سے 2030-31 کے دوران اس اسکیم کے لیے 3,600 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس دوران 7 لاکھ نئے فنڈز بنائے گئے ہیں۔ اس مدت کے طلبا کو اس کا فائدہ حاصل ہونے کی امید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن طلباءکی سالانہ خاندانی آمدنی 8 لاکھ روپے تک ہے اور جو کسی دوسرے سرکاری اسکالرشپ یا سود میں رعایتی اسکیم کے تحت فوائد حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں وہ بھی قرض کی معطلی کی مدت کے دوران 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں پر 3 فیصد سود کی رعایت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہر سال ایک لاکھ طلبہ کو سود کی معافی کی امداد دی جائے گی۔ ان طلباءکو ترجیح دی جائے گی جو سرکاری اداروں سے پاس آوٹ ہیں اور انہوں نے تکنیکی، پیشہ ورانہ کورسز کا انتخاب کیا ہے ۔ مزید برآں، 7.5 لاکھ روپے تک کے قرض کی رقم کے لیے طالب علم بقایا ڈیفالٹ کے 75 فیصد کی کریڈٹ گارنٹی کا بھی اہل ہوگا۔ اس سے بینکوں کو اس اسکیم کے تحت طلباءکو تعلیمی قرض فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ پردھان منتری ودیالکشمی ایک نئی مرکزی سیکٹر اسکیم ہے ، جس کا مقصد ہونہار طلباءکو مالی مدد فراہم کرنا ہے ، تاکہ مالی رکاوٹیں کسی کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے نہ روکیں۔ پی ایم ودیالکشمی ایک اور اہم اقدام ہے جو قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے نکلتا ہے ، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مختلف اقدامات کے ذریعے ہونہار طلباءکو سرکاری اور نجی دونوں طرح سے مالی امداد فراہم کی جائے ۔ پی ایم ودیالکشمی یوجنا کے تحت کوئی بھی طالب علم جو کسی معیاری اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے کا خواہاں ہے ، وہ بغیر کسی ضمانت یا گارنٹی کے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنے کا اہل ہے تاکہ کورس سے متعلق تمام ٹیوشن فیس اور دیگر اخراجات پورے کیے جاسکیں۔ . یہ ا سکیم ایک سادہ، شفاف اور طالب علم دوستانہ نظام کے ذریعے چلائی جائے گی












