نئی دہلی ،5اپرےل/ سپرےم کورٹ نے کہا کہ پرےس کی آزاد ی کو مسلا نہےں جا سکتا ہے۔ اور عدالت نے حکومت کو ہداےت دی کہ وہ ملےالم نےوز چےنل سے پابندی جلد اٹھائے۔ عدالت عالےہ نے کہا کہ قومی سلامتی کے مسائل کو لوگوں کے حقوق کے ساتھ جوڑا نہےں جا سکتا ہے۔ کےونکہ وزارت داخلہ نے کہا کہ محض حکومت پر تنقےد کرنے پر پابندی لگانا بنےادی حقوق کے خلاف ہے۔ عدالت نے کہا کہ چےنل مےڈےا ون نے حکومت کی پالےسےوں کی مخالفت کی ہے لےکن اس کو قومی مفاد کے ساتھ جوڑنا ساتھ نہےں ہے۔ آزاد پرےس جمہورےت کی علامت ہے۔ وزارت اطلات ونشرےات نے ا س چےنل کے لائسنس کو جاری نہ کرنے پر نکتہ چےنی بھی کی ۔ عدالت عالےہ نے کہا کہ اس مےڈےا چےنل کے خلاف کسی قسم کا مواد پےش نہےں کےا گےا ہے جس سے ےہ ثابت ہوجائےگا کہ ملک کے مفاد کے خلاف ہے اس چےنل نے 2020کے دوران سی سی اے احتجاجوںکو نما ےا طور پر ٹےلی کاسٹ کےا ۔ اور ا سمےں ےہ دےکھنا کہ ےہ دہشت گردی کے ساتھ جڑا ہے ےہ معذون نہےںہے محض حکومت کو تنقےد کرنا کسی چےنل کے لائسنس کو مسنوخ کرنے کا جواز نہےں پےش کےا جاسکتا ۔ مےڈےا ون کی لائسنس پچھلے سال جنوری مےں منسوخ کی گئی او ران کے پروگراموں کے ٹےلی کاسٹ پر بند ی لگائی۔ پچھلے سال سپرےم کورٹ نے کےرالہ ہائےکورٹ کے فےصلے پر روک لگائی جس مےں انہو ںنے حکومت کے فےصلے کو جائز قرار دےا ۔













