نئی دہلی،21مارچ / دہلی حکومت کے بجٹ کو وزارت داخلہ نے منظوری دے دی ہے۔ وزارت داخلہ کی منظوری پر دہلی حکومت کا ردعمل بھی آیا ہے۔ دہلی حکومت نے کہا ہے کہ ‘ہمیں میڈیا کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ ایم ایچ اے نے دہلی کے لیے بجٹ کو منظوری دے دی ہے۔ لیکن ہم سرکاری منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کے ذرائع نے منگل کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے دہلی حکومت کے بجٹ کو منظوری دے دی ہے اور یہ اطلاع عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت کو دے دی گئی ہے۔ یہ بیان اس معاملے پر مرکز اور دہلی حکومت کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کے بعد آیا ہے۔اس معاملے پر ایل جی آفس سے ایک بیان بھی آیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اروند کیجریوال ان کے وزرا اور عام آدمی پارٹی جان بوجھ کر جھوٹے بیانات دے رہے ہیں جس کا واحد مقصد دہلی کے عوام، میڈیا کو گمراہ کرنا اور آپ حکومت کی ناکامیوں سے ان کی توجہ ہٹانا ہے۔ وہ کہتے رہے ہیں کہ مرکز نے ”ریاستوں“ کے بجٹ کو روک دیا ہے۔ یہ صریحاً غلط ہے۔ دہلی ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے نہ کہ ریاست اور اس لیے یہ مکمل اور جزوی طور پر حکومت ہند کا حصہ ہے۔ دستور کے مطابق دہلی کا بجٹ اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل صدر جمہوریہ ہند کی پیشگی رضامندی اور منظوری ضروری ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ 28 سالوں سے مسلسل جاری ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بجٹ کے لیے صدر کی منظوری لینے سے پہلے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ طے کرنا اپنے آپ میں غلط ہے اور یہ آپ حکومت کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ دہلی حکومت نے ایک بار پھر میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ دہلی حکومت کے ملازمین کو تنخواہ نہیں دی جائے گی۔اس سے پہلے آج دہلی کے وزیر خزانہ کیلاش گہلوت نے کہا تھا کہ بجٹ فائل کو منظوری کے لیے دوبارہ مرکزی وزارت داخلہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ گہلوت نے صبح کہا تھا کہ بجٹ کی فائل براہ راست اور ای میل کے ذریعے وزارت داخلہ کو منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے۔ دہلی حکومت کا سال 20223-24کا بجٹ منگل کو پیش کیا جانا تھا، جسے روک دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں اروند کیجریوال کی قیادت والی حکومت اور مرکزی حکومت نے ایک دوسرے پر مختلف اشیاء مختص کرنے کا الزام لگایا ہے۔چیف منسٹر کی جانب سے مرکز پر الزام لگانے کے بعد، وزارت داخلہ کے ذرائع نے کہا تھا کہ وزارت نے عام آدمی پارٹی زیرقیادت حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کیونکہ اس کی بجٹ تجویز میں انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی اقدامات کے بجائے اشتہارات کے لیے بہت زیادہ رقم مختص کی گئی تھی۔













