نئی دہلی،21مارچ /کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ہندوستان کی جمہوریت پر اپنے بیانات کو لے کر بی جے پی کے نشانے پر ہیں۔ بی جے پی راہل گاندھی سے معافی مانگنے پر بضد ہے۔ ساتھ ہی کانگریس نے صاف کہہ دیا ہے کہ راہل نے ایسا کچھ نہیں کہا جس کے لیے انہیں معافی مانگنی پڑے۔ اس سب کے درمیان بی جے پی لیڈر ہر روز راہل گاندھی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کانگریس لیڈر پر تازہ حملہ کیا ہے۔مرکزی اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نےمیڈیا سے بات چیت میں کہاراہل گاندھی کا غیر ملکی سرزمین سے ہندوستان پر بار بار حملے، جھوٹ پھیلانا، ملک کو بدنام کرنا اور ‘چوری اوپر سے سینا زوری کے لیے معافی بھی نہ مانگنا لیجنڈ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ راہل گاندھی سے بی جے پی کے پوچھے گئے سوالات کا آج تک جواب نہیں دیا گیا۔ ٹھاکر نے کہاہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا اجلاس صحیح طریقے سے چلے، لیکن راہل گاندھی کو کم از کم معافی مانگنی چاہیے۔انوراگ ٹھاکر نے مزید کہاکیا کانگریس پارٹی لداخ اور اروناچل پردیش کو ہندوستان کا حصہ نہیں مانتی؟ راہل نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ راہل کہتے ہیں کہ جمہوریت کو صاف کیا جا رہا ہے دراصل کانگریس کو ہندوستان سے صاف کیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع نہیں ملتا۔ انہیں ہر موضوع پر بولنے کا موقع دیا گیا لیکن وہ بغیر تیاری کے بولتے ہیں۔دراصل، اس مہینے کے شروع میں راہل گاندھی لندن کے دورے پر تھے۔ وہیں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں کہا کہ جب کانگریس ممبران پارلیمنٹ کی بولنے کی باری آتی ہے تو پارلیمنٹ میں مائیک بند کر دیے جاتے ہیں۔ اپوزیشن اپنی آواز نہیں رکھ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کوئی لیڈر ملک کی کسی یونیورسٹی میں تقریر نہیں کر سکتا۔ ہندوستان میں جمہوریت پر سیدھا حملہ ہے۔ انوراگ ٹھاکر نے ان بیانات پر اپنا ردعمل دیا














