سونیا گاندھی کے معافی مانگنے سے متعلق نعرے بازی ، مہنگائی اوراگنی پتھ اسکیم کے مسائل پر بحث کا مطالبہ
نئی دہلی، ۹۲جولائی (یو این آئی/ ایجنسیز) لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائیاں معطل کردی گئیں۔ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے جمعہ کو ایوانوںکی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ لوک سبھا میں ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی پریذائیڈنگ آفیسر راجندر اگروال نے ایوان کی کارروائی شروع کی تو حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے ارکان نے اپنی جگہ پر ہنگامہ شروع کردیا۔ حکمراں جماعت کی جانب سے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے معافی مانگنے کے تعلق سے نعرے بازی کرنے لگے جبکہ کانگریس ارکان نے تاناشاہی نہیں چلے گی کے نعرے لگانے لگے ۔ ہنگامہ کے درمیان پریذائیڈنگ آفیسر نے اہم کاغذات ایوان کی میز پر رکھے ۔ پریزائیڈنگ افسر نے ہنگامہ آرائی کرنے والے ارکان کو اپنے اپنے مقامات پر جانے کی اپیل کی لیکن ہنگامہ بڑھتاگیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔قبل ازیں جب ایوان کا اجلاس 11 بجے شروع ہوا تو پریذائیڈنگ آفیسر کریٹ بھائی سولنکی نے وقفہ سوال شروع کرنے کےلئے اپوزیشن ارکان سے سیٹ پر بیٹھنے کی اپیل کی جو پہلے سے ہی نعرہ بازی اورشورغل کررہے تھے۔ ایوان میں بدانتظامی دیکھ کر مسٹر سولنکی نے دومنٹ کے اندر کارروائی 12 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے جمعہ کو مسلسل نویں روز مہنگائی، اگنی پتھ اسکیم اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کے مسائل پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی گئی۔ اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کی وجہ سے 18 جولائی سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس میں اب تک ایک دن بھی بہتر طریقے سے کارروائی نہیں ہوسکی۔ پریزائڈنگ ڈپٹی چیرمین سسمیت پاترا نے صبح التوا کے بعد وقفہ سوالات شروع کرنے کی کوشش کی اسی وقت اپوزیشن ارکان ایوان کے بیچ میں آئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ اس دوران حکمراں جماعت کے ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور بولنا شروع کر دیا۔ اگرچہ پریزائیڈنگ افسر نے وقفہ سوالات شروع کرنے کے لیے متعدد اپیلیں کیں لیکن ہنگامہ جاری رہا جس کی وجہ سے انہوں نے ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کر دی۔














