ٹیکہ کاری سے کووڈ انیس کے خلاف عالمی مہم کو تقویت ملی ۔ وزیر اعظم
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//وزیراعظم نریندر مودی نے کووڈ سے بچاو¿ کے 200 کروڑ سے زیادہ ٹیکے لگانے کا سنگ میل حاصل کرنے پر سبھی بھارتی شہریوں کو مبارکباد دی ہے۔ ایک ٹوئیٹ میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت نے ایک بار پھر تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں ا±ن لوگوں اور اہلکاروں پر فخر ہے جنہوں نے بھارت کی ٹیکہ کاری مہم کو بے مثال بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ سی این آئی کے مطابق وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اِس سے کووڈ انیس کے خلاف عالمی مہم کو تقویت ملی ہے۔ اطلاعات ونشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ بھارت کے لوگوں نے آتم نربھر بھارت کے نظریے کے ذریعے روزی روٹی کا تحفظ کرتے ہوئے اور اصلاحات نافذ کرتے ہوئے ریکارڈ رفتار کے ساتھ یہ کامیابی حاصل کی ہے۔صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر منسکھ مانڈویا نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ اِس دن کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اِس کامیابی پر آکاشوانی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر مانڈویا نے کہا کہ کووڈ سے بچاو¿ کے 200 کروڑ ٹیکے تیزی کے ساتھ لگانے میں سائنسی تحقیق پر زور، کووڈ ویکسین تیار کرنے اور پورے ملک میں ٹیکہ کاری مہم کے لیے بڑا نیٹ ورک قائم کیے جانے کا اہم رول رہا۔ ملک میں پچھلے سال 16 جنوری کو کووڈ سے بچاو¿ کے ٹیکے لگانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور 18 مہینے کی مدت میں ہی بھارت نے متعلقہ افراد کو 200 کروڑ ٹیکے لگانے کا اہم سنگ میل حاصل کرلیا۔ ڈاکٹر مانڈویا نے کہا کہ ملک میں کامیاب کووڈ ٹیکہ کاری مہم کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کی کامیاب حکمت عملی کا اہم رول ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ ملک میں ہی ٹیکے تیار کرنے اور کووڈ ویکسین کے موثر ہونے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے اور اِس کے نتیجے میں 98 فیصد سے زیادہ لوگوں کو پہلا ٹیکہ لگایا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر مانڈویا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ سے بچاو¿ کے ٹیکے لگانے کی رفتار تیز کرنے اور اِس کا دائرہ بڑھانے کے لیے لگاتار کوششیں کی گئیں اور اس کے نتیجے میں 97 فیصد افراد کو دوسرا ٹیکہ بھی لگادیا گیا۔ وزیر صحت نے زور دے کر کہا کہ بچوں کو کووڈ سے بچاو¿ کے لیے کووڈ ویکسین لگانا ضروری ہے۔ا±دھر عالمی صحت تنظیم‘ WHO نے کووڈ سے بچاو¿ کے 200 کروڑ ٹیکے لگانے پر بھارت کی ستائش کی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے لیے WHO کی علاقائی ڈائریکٹر، ڈاکٹر پونم کھیترپال سنگھ نے کہا کہ یہ عالمی وَبا کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے بھارت کے عہد اور کوششوں کا ایک اور ثبوت ہے۔
بھارت کے مسافر بردار طیارہ کی پاکستان میں ہنگامی لینڈنگ
انڈیگی طیارہ شارجہ سے حیدر آباد آرہا تھا ، کراچی ائر پورٹ پر اُتاردیا گیا
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//بھارت کے ایک مسافر بردار طیارے نے پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی کراچی ائر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی ، طیارے میں تکنیکی خرابی بھانپتے ہوئے پائلٹ نے کراچی ائر پورٹ اتھارٹی سے ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی ۔ ادھر ماہرین کی ٹیم جہاز کی جانچ کررہے ہیں۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق انڈوےگو طےارہ جو شارجہ سے حےدرآباد آہا تھا کو کراچی اےئرپورٹ کر اےمرجنسی لےنڈنگ کرنی پڑی کےونکہ اس مےں تکےنےکی خرابی ہوئی تھی ۔ پائلٹ نے پرواز کے دوران ےہ محسوس کےا کہ طےارے مےں کچھ خرابی ہوئی ہے اور مسافروں کی سلامتی کے لئے انہو ںنے کراچی ہوائی اڈے پر تارہ سارے مسافر صحےح سلامت ہےں۔ انڈےگو مسافروں کو لےنے کے لئے دوسراطےارہ کراچی بھےج رہاہے۔ ہوائی اڈے پر طےارے کی تکنےکی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔ عملے کا کہنا ہے کہ جہاز کے دوسر ے انجن مےں خرابی ہوئی جس سے اےمرجنسی لےنڈنگ کرنی پڑی ۔ اس سے پہلے اسی کمےنی کے طےارے کو جے پور مےں لےنڈنگ کرنی کرنی ۔ طےارے کے اعلی افسر اس معاملے کی تحقےق کررہے ہےں اس مہےنے کے اولےن مےں اسپائٹس جےٹ کے طےارے کو کراچی اےئرپورٹ پر اترنا پڑا چونکہ اس مےں کم اےندھن رہ گےا تھا ۔
مسجد حرام میں 15 ایام میں حجاج کرام اور
نمازیوں میں 12 ملین لیٹر زمزم تقسیم
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین نے اس سال (1443ھ) کے یکم ذوالحج سے لے کر15 ذی الحج تک مسجد حرام میں تقریبا 12 ملین لیٹر زمزم تقسیم کیا۔مسجد حرام میں زمزم فراہمی کے محکمے کے ڈائریکٹر عبدالرحمن الزہرانی نے بتایا کہ محکمہ نے 330 ملی لیٹر کے 3 ملین کین اور نو لاکھ 90 ہزار لیٹر تقسیم کیے۔ 11 ملین 10 ہزار لیٹر 25 ہزار کنٹینرز کے ذریعے تقسیم کیے گیا گیا۔ ان کولروں میں 40 لیٹر پانی ڈالنے کی گنجائش ہے اور انہیں مسجد حرام کے صحن اور گیلریوں میں رکھا گیا ہے۔الزہرانی نے کہا کہ زمزم کے پانی کی بوتلیں 300 موبائل بیگز کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہیں اور زمزم فراہمی کی خدمات 1150 کارکنان کرتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ پرس، موبائل بیگز اور گاڑیوں کو وقتاً فوقتاً ریکارڈ وقت میں دھویا اور جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے۔ پانی ذخیرہ کرنےوالے آلات اور کولروں کو ماحول دوست ڈٹرجنٹ سے صاف کیا جاتا ہے۔ مسجد حرام میں زمزم کی فراہمی کا عمل 150 سپروائزرز کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔
70سے 80سال پُرانے قوانین کو بدل کر تاریخ رقم کی ۔ وزیر داخلہ
امت شاہ نے کہا کہ زرعی اور دیہی ترقیاتی بینکوں نے زراعت کی کایا پلٹ کر دی
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے ملک میں نافذ 70سے 80سال پُرانے قوانین کو بدل کر تواریخی کارنامے انجام دئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ سرکار ہی ہے جس نے کشمیر جیسے پیچیدہ مسئلے کو چٹکی میں حل کیا ۔ رام مندر تنازعہ ، تین طلاق معاملہ کو حل کیا جو تواریخی کارنامے ہیں ۔ امت شاہ نے کہا کہ زرعی قوانین میں ترمیم کی گئی جس سے کسانوں اور کاشتکاروں کو کافی فائدہ مل رہا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق مرکزی امور داخلہ اور امدادی باہمی کے محکمے کے وزیر امت شاہ نے آج کہا کہ زرعی اور دیہی ترقیاتی بینکوں نے زراعت کی کایا پلٹ کر دی ہے۔ وہ نئی دلی میں آج زرعی اور دیہی ترقیاتی بینکوں کی قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امداد باہمی کے شعبے کے بارے میں ایک متحدہ ڈاٹا بیس تیار نہیں ہوتا اِس شعبے کی توسیع ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادِ باہمی کی وزارت ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹی کو کثیر رخی بنانے کے تئیں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں وزارت نے تبادلہ خیال کے لیے ریاستوں کو مثالی ضوابط فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ 70 سے 80 سال پرانے قوانین کو بدل کر ابتدائی زرعی قرضوں کی سوسائٹی میں نئی سرگرمیوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے تاریخی فیصلوں سے ملک کو ایک نئی جہت ملی ہے اور صدیوںپُرانے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ سرکار ملکی عوام کو راحت پہنچانے کے اپنے وعدے پر کابند ہے۔شاہ نے کہا کہ یہ ARDBs کی ذمہ داری ہے کہ وہ گاوں کے کسانوں تک یہ بات پہنچائیں اور انہیں اِس بات سے واقف کرائیں کہ زراعت کو کیسے وسعت دی جائے، آمدنی کو کیسے بڑھایا جائے، زراعت کو اطمینان بخش کیسے بنائیں اور کسان کیسے خوشحال ہوں۔
وقت آگیا ہے کہ ہم کیسز کی فکر کرنا چھوڑ دیں
کووڈ کی تعداد سے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ ڈاک
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر (ڈی اے کے) نے اتوار کے روز کہا کہ کووڈ 19 کیسوں کی تعداد مطابقت کھو چکی ہے اورتعداد لوگوں میں غیر ضروری گھبراہٹ اور خوف کا باعث بنتی ہے۔سی این آئی کے مطابق ڈاک کے صدر اور انفلوئنزا کے ماہر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہاکہ کووڈ کیسز کی تعداد لوگوں میں غیر ضروری گھبراہٹ اور خوف کا باعث بنتی ہے۔ڈاکٹر حسن نے کہا کہ وبائی امراض کے شروع میں روزانہ کیسز کی گنتی کو میٹرک کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس وقت کیسز میں اضافے سے ہسپتال میں داخل ہونے اور اموات میں اضافہ ہوتا تھا۔”لیکن اب یہ بدل گیا ہے،” انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن اور قدرتی قوت مدافعت کی وجہ سے عام آبادی میں بڑے پیمانے پر استثنیٰ کے ساتھ، زیادہ تر انفیکشن ہلکے ہوتے ہیں اور انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ڈاک کے صدر نے کہا کہ ہم وبائی مرض کے ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں اب وائرس کے ہر ایک کیس کی شناخت اور ان کا انتظام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم کیسز کی فکر کرنا چھوڑ دیں اور ہسپتال میں داخل ہونے پر اپنی توجہ مرکوز کریں جو اس وقت بہت کم ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ کوویڈ 19 ایک مقامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کیسز میں اضافہ اور کمی ایک معمول کا عمل ہے۔یہ ایک اور انفیکشن بن گیا ہے جو بہت سی دوسری بیماریوں میں شامل ہو گیا ہے جسے ہم نے جینا سیکھ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوویڈ سے اسی طرح نمٹنے کی ضرورت ہے جس طرح ہم دوسرے مقامی وائرس جیسے فلو سے کرتے ہیں۔ہم عوامی طور پر انفلوئنزا کے روزانہ کیسز کی گنتی کی اطلاع نہیں دے رہے ہیں، اور نہ ہی ہم اس بات کا محور رکھتے ہیں کہ جب کیسز کسی من مانی تعداد تک پہنچ جاتے ہیں تو ہم کیا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کوویڈ کے لئے بھی ایسا ہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا ، داخلی طور پر کیس کی گنتی کو ٹریک کرنا ہوگا اور عوام کو صرف اسپتال میں داخل ہونے اور موت کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔
ریاستی کانگریس کو اگلے ہفتے جموں و کشمیر میں نیا صدر مل جائے گا
جی ایم سروڑی اور وقار رسول صدر بننے کی دوڑ میں
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//جی ایم سروڑی جموں و کشمیر کانگریس کے نئے صدر ہو سکتے ہیں۔ اب تک دو نام شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں۔ ان میں غلام محمد سروڑی اور وقار رسول کے نام شامل ہیں۔ دونوں رہنما غلام نبی آزاد کے بھی کافی قریب ہیں۔سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر میں ریاستی کانگریس کو غلام محمد سروری (جی ایم سروری) کی شکل میں نیا صدر ملنا تقریباً طے ہے۔ سرووری کے نام کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے جب راہول گاندھی 18 جولائی کو اپنے غیر ملکی دورے سے نئی دہلی واپس آئیں گے۔پارٹی ذرائع کے مطابق کانگریس کی قومی صدر سونیا گاندھی نے غلام نبی آزاد کو جموں و کشمیر میں کانگریس کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ آزاد نے نئی دہلی میں ریاستی کانگریس کے رہنماو¿ں کے ساتھ ساتھ کانگریس کے قومی رہنماو¿ں سے ریاستی کانگریس کا نیا صدر بنانے کے لیے مختلف ناموں پر بات چیت کی ہے۔ ریاست کے کئی کانگریسی لیڈر بھی دہلی میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔اب تک دو نام شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں۔ ان میں غلام محمد سروری اور وقار رسول کے نام شامل ہیں۔ یہ دونوں جموں و کشمیر میں سابق ایم ایل اے کے ساتھ ساتھ وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ دونوں رہنما غلام نبی آزاد کے بھی کافی قریب ہیں۔ غلام نبی آزاد پردیش کانگریس کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں اور کشتواڑ ضلع کے اندروال اسمبلی حلقہ سے سابق ایم ایل اے ہیں۔ وقار رسول رامبن اسمبلی حلقہ سے سابق ایم ایل اے ہیں۔ وقار رسول سروری سے بہت چھوٹے ہیں۔ ایسے میں ریاستی کانگریس کے لیڈر چاہتے ہیں کہ تجربے کو ترجیح دی جائے۔یہ یقینی ہے کہ ریاستی کانگریس کو اگلے ہفتے جموں و کشمیر میں نیا صدر مل جائے گا۔ تاہم غلام نبی آزاد جموں و کشمیر سے متعلق اہم فیصلے لینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
کوکر ناگ سڑک حادثے میں ایک شخص ہلاک، ساتھی زخمی
راجوری سڑک حادثے میں پانچ مسافر زخمی، ہسپتال میں زیر علاج
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ناگام کوکر ناگ علاقے میں لوڈ کیرئیر کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ا±س میں سوار ایک شخص کی برسر موقع ہی موت واقع ہوئی جبکہ دوسرا شدید طورپر زخمی ہوا۔ذرائع نے بتایا کہ اتوار کی صبح ناگام کوکر ناگ میں ایک لوڈ کیرئیر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر سڑک پر الٹ گیا جس کے نتیجے میں دو افراد شدید طورپر زخمی ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ آس پاس موجود لوگوں نے زخمیوں کو علاج ومعالجہ کی خاطر فوری طورپر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا تاہم ڈاکٹروں نے ایک زخمی کو مردہ قرار دیا۔دریں اثناءضلع راجوری کے ٹھنڈا کشی علاقے میں مسافر بردار گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں پانچ مسافر زخمی ہوئے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اتوار کے روز ٹھنڈا کشی راجوری میں مسافر بردار گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر سڑک پر حادثے کا شکار ہوئی جس وجہ سے گاڑی میں سوار پانچ مسافر زخمی ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو علاج ومعالجہ کی خاطر گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کیا گیا جہاں پر دو کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
مالون کولگام میں سرکاری سکول کےلئے عمارت نہیں
بچے پنچایت گھر میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور، بارش کے دنوں سکول رہتا ہے بند
سرینگر/17 جولائی/سی این آئی//گورنمنٹ پرائمری سکول ڈانگر پورہ مالون کولگام میں قائم سکول کی عمارت نہ ہونے کے نتیجے میں بچوں کو مقامی پنچایت گھر میں ہی پڑھایا جاتا ہے- کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں قائم سرکاری سکولوں کی حالت ابتر ہونے کے نتیجے میں ان سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل مخدوش بن رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ پرائمری سکول ڈانگر پورہ مالون کولگام کی سکولی عمارت نہیں ہے- جس کے بعد سے سکول میں زیر تعلیم بچوں کو مقامی پنچایت گھر میں ہی پڑھایا جارہا ہے۔ا گرچہ سکول میں تعینات اساتذہ نے سکول کےلئے کرایہ کےلئے جگہ کی تلاش کی تھی تاہم وہ اس میں ناکام ہوئے۔ اس سلسلے میں اگرچہ متعلقہ حکام سے کئی بار بات کی گئی او ر سکولی عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا تاہم اس سلسلے میں محکمہ ایجوکیشن نے ابھی تک کوئی بھی اقدام نہیں ا±ٹھایا۔ ڈانگر پورہ مالون میں گورنمنٹ پرائمری سکول میں زیر تعلیم 151بچے پڑاھنے کے لئے صرف 4 ٹیچر اور 3 کمروں میں پڑھائے جارہے ہیں جہاں پر نہ سوشل دوری کا کوئی پاس و لحاظ رہتا ہے اورناہی طلبہ ٹھیک طرح سے پڑھائی کرپارہے ہیں۔ اس صورتحال پر مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور دراز علاقوں میں قائم سکولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق جنوبی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکول سرکار اور متعلقہ محکمہ کی نظروں سے ا جھل ہیں جہاں پر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تو ہے لیکن انہیں سہولیات مئیسر نہیں ہے جس کی وجہ سے دور درازعلاقوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کولگام زون میں مالون گاوں میں پرائمری سکول کی عمارت نہیں ہے اور بچوں کو مقامی پنچایت گھر میں پڑھایا جاتا ہے اسی پنچایت گھر کی عمارت کے پانچ کمروں میں سکول کو چلایا جارہا ہے۔ مالون چونکہ ایک وسیع آبادی پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے سکول میں بچوں کا رول بھی کافی ہے۔ سکول میں 151سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں سکول میں عملہ کی قلت بھی ہے لیکن پنچایت گھر عمارت صرف پانچ کمروں پر مشتمل ہے جن میں سے دو دفتری کام کاج کےلئے ہے جبکہ دیگر تین کمروں میں 6 کلاسوں کو پڑھایا جارہا ہے۔ تین کمروں میں 151بچے جب ایک ساتھ جمع کردئے جائیں گے تو کلاس روم میں پڑھنے اور پڑھانے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ سکول میں تعینات اساتذہ کا کہنا ہے کہ سکول میں بچوں کو پڑھانے کا کام بہت مشکل بن جاتا ہے کیوں کہ ایک ہی کمرے میں دو تین کلاسوں کے بچوں کو رکھ کر بچوں کو پڑھانا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب موسم بہتر ہوتا ہے تو ہم بچوں کو سکول صحن میں پڑھاتے ہیں جو کلاسوں کے بنسبت بہتر ہوتا ہے لیکن جب موسم خراب ہوتا ہے تو ہمارے سکول کے کلاسوں میں اس قدر شور و غل پیدا ہوتا ہے کہ ہم مجبور ہوکر کچھ کلاسوں کو چھٹی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کےلئے دوسری عمارت کے حوالے سے کئی بار تحریری طور پر زیڈ ای او سے مطالبہ کیا گیا تاہم محکمہ کی جانب سے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ اس دوران مقامی لوگوں نے سی این آئی نمائندے امان ملک بتایا کہ سرکار اور محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے سکول کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ا نہوںنے کہا کہ اس سکول کو سرکار اور محکمہ نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں آبادی مزدو طبقہ سے وابستہ ہے جو بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل نہیں کرسکتے لیکن سرکاری سکولوں میں بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات دستیاب نہ ہونے سے ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا کہ دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کےلئے کوئی سہولیات دستیاب نہیں ہے اس کے باوجود بھی غریب بچے سکول جانے کےلئے تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری آئے روز دعویٰ کرتی ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنائی جارہی ہے لیکن زمینی سطح پر صورتحال مختلف ہے۔ کہیں سکولی عمارت نہیں تو کہیں پر پڑھانے کےلئے عملہ دستیاب نہیں ہے۔
وائی بم ڈورہ کوکر ناگ میں تیندوے کو پکڑ لیا گیا
مقامی لوگوں نے لی راحت کی سانس
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//جنوبی کشمیر کے وائی بم ڈورہ کوکر ناگ میں جنگلی ریچھ زندہ پکڑ لیا گیا،علاقے میں جنگلی جانوروں کے بستیوں میں آنے کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ ادھر ریچھ پکڑنے پر لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔ سی این آئی نمائندے امان ملک نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے وائی بم ڈورہ کوکر ناگ علاقے میں اتوار کی صبح ایک جنگلی تیندوے پر قابو پایا گیا۔وائلڈ لائف محکمہ کے رینج آفیسر برنگی ویلی امتیاز احمد نے بتایا کہ کوکر ناگ کے وائی بم ڈورہ گاوں میں ایک شخص کو زخمی کرنے کے بعد محکمہ نے متعدد جگہوں پر پنجرے نصب کئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح ایک تیندوا پنجرے میں پھنس کر رہ گیا جس کے بعد ا±س کو وائلڈ لائف سنچری منتقل کیا گیا۔ادھر مقامی لوگوںنے کہا ہے کہ علاقے میں جنگلی جانوروں کی بستیوں کی طرف آنے سے لوگ خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ محکمہ جنگلی جانوروں کو بستیوں سے دور رکھنے کےلئے اقدامات اُٹھائیں۔
مودی حکومت نوجوانوں کو بے روزگار بنا کر
کروڑوں کنبوں کی امید توڑ رہی: راہل گاندھی
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی مہنگائی اور بے روزگار کے مسئلے پر اکثر مرکز کی مودی حکومت کو گھیرتے رہے ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے ایک بار پھر مرکز کو بے روزگاری کے معاملے پر کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انھوں نے مرکزی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے تاناشاہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو بے روزگار بنا کر کروڑوں کنبوں کی امید توڑ رہی ہے۔ انھوں نے اپنا حق مانگ رہے نوجوانوں کی ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے۔اپنے تازہ ٹوئٹ میں راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ”سوال مت پوچھو، آواز مت اٹھاو، پرامن مظاہرہ مت کرو، نئے ہندوستان میں حق مانگنے پر ہوگی گرفتاری۔ نوجوانوں کو بے روزگار بنا کر، کروڑوں کنبوں کی امید توڑ کر، ملک کا مستقبل اجاڑ رہی ہے یہ تاناشاہ حکومت۔“اس سے قبل بھی راہل گاندھی نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 20 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح مبینہ طور پر دوگنی ہونے کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ راہل گاندھی نے پی ایم مودی سے سوال کیا تھا کہ کیا وزیر اعظم کے ’جھوٹ‘ کے لیے ملک کے نوجوان ’گمراہ‘، ’دھوکہ بازی اور ’غیر پارلیمانی‘ الفاظ کا استعمال کر سکتے ہیں؟
سرینگر/17جولائی/سی این آئی//













