ریسکو آپریشن شروع کیا گیا ہے، ملبے کے نیچے دبے مزدوروں کا بچ پانا اب مشکل ہے /حکام
سری نگر جموں شاہراہ پر خونی نالہ کے نزدیک زیر تعمیر فور لین ٹنل کا ایک حصہ درمیانی شب گر آنے کی وجہ سے 14مزدور پھنس کر رہ گئے۔ ابتدائی طور پر چار مزدوروں کو زخمی حالت میں باہر نکال کر ہسپتال لے جایا گیا تاہم باقی 10ملبے کے نیچے زندہ دفن ہوئے اور جمعے کی شام تک صرف ایک ہی لاش باز یاب کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق سری نگر جموں شاہراہ پر خونی نالہ کے نزدیک اُس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب ایک زیر تعمیر ٹنل اچانک ڈہہ گئی جس وجہ سے وہاں پر کام میں مصروف چودہ مزدور ملبے کے نیچے زندہ دفن ہوئے۔ نمائندے نے بتایا کہ پولیس اور مقامی رضاکاروں نے فوری طورپر ریسکو آپریشن شروع کیا جس دوران تین مزدوروں کو زخمی حالت میں باہر نکال کر ہسپتال پہنچایا گیا۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ تین افراد کو بچا لیا گیا اور انہیں ضلع ہسپتال رام بن منتقل کیا گیا جہاں سے ایک وشنو گولا (عمر 33) جھارکھنڈ کو مزید علاج کے لیے جی ایم سی جموں منتقل کیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سلرا کمپنی کے مزدور ملبے کے نیچے آگئے ہیں جنہیں باہر نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر ریسکو آپریشن شروع کیا گیا ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ تین مزدوروں کو زخمی حالت میں ملبے سے باہر نکال کر نزدیکی ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے ایک مزدور جس کی شناخت وشنو ساکن جارکھنڈ کے بطور ہوئی ہے کو مزید علاج ومعالجہ کی خاطر گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں منتقل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر رام بن، ڈی آئی جی ، ایس ایس پی رام بن اور قومی شاہراہ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر فوری طورپر جائے موقع پر پہنچے اور وہ ریسکو آپریشن کی از خو دنگرانی کر رہے ہیں۔حکام نے ملبے کے اندر پھنسے ہوئے مزدوروں کی شناخت جادو رائے ، گوتم رائے، سدھیر رائے ، دیپک رائے، پریمل راے ساکنان مغربی بنگال، شیو چوہان ساکن آسام، نوراج چودھری اور کشی رام ساکنان نیپال کے بطور کی جبکہ لاپتہ مزدوروں میں دو مقامی باشندے مظفر اور عشرت بھی شامل ہیں۔














