یوکرین میں حملے جاری، ماریوپول محاصرے میں، دو لاکھ سے زائد آبادی شدید مشکلات کا شکار
ماسکو: ۳۲ مارچ( ایجنسیز) روس کی افواج کو پڑوسی ملک یوکرین میں داخل ہوئے ایک ماہ ہونے کو ہے اور اس دوران جنگ بندی کرانے کی سفارتی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو پائیں۔ یوکرین کے شہروں پر روسی افواج کے حملے جاری ہیں اور ملک کا جنوبی ساحلی شہر ماریوپول اس وقت محاصرے میں ہے جہاں دو لاکھ سے زائد آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ بدھ کو ماریوپول شہر میں دو زوردار دھماکے سنے گئے جن کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ شہریوں کو ریسکیو کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماریوپول میں دو لاکھ آبادی جنگ میں پھنس چکی ہے جبکہ وہاں سے زندہ نکل جانے والوں نے شہر کو ایک ایسا سرد جہنم قرار دیا ہے جہاں ہر طرف تباہ شدہ عمارتیں اور لاشیں نظر آ رہی ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس ایٹمی یا جوہری ہتھیار یوکرین کے ساتھ تنازعے میں صرف اسی وقت استعمال کر سکتا ہے جب اس کو اپنا وجود برقرار رکھنے کا خطرہ لاحق ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے روس کی پہلے سے ہی یہ پالیسی ہے۔ یوکرین پر حملے کے بعد سے روس نے کئی مرتبہ بڑے اہداف حاصل کرنے کے دعوے کیے جبکہ یوکرین، مغرب اور امریکہ نے روسی افواج کو سخت مزاحمت اور بھاری نقصان پہنچنے کے بیانات دیے تاہم ان کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔اے ایف پی کے مطابق کریملن کی جانب جھکاو¿ رکھنے والے اخبار کومسومولسکایا پراودا نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ یوکرین میں نو ہزار 861 روسی فوجی مارے گئے جبکہ 16 ہزار 153 زخمی ہوئے۔












