نئی دہلی(یو این آئی) سپریم کورٹ نے بھیما کورے گاوں تشدد معاملے میں سماجی کارکن اور وکیل سدھا بھاردواج کو بامبے ہائی کورٹ سے ملی ضمانت کو چیلنج کرنے کرنے والی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) کی اپیل منگل کو خارج کردی۔ جسٹس یو یو للت ، جسٹس ایس روندر بھٹ اور جسٹس بیلا ایم تریویدی کی بینچ نے اپیل کو خارج کردیا۔ بنچ نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے مداخلت کرنے سے انکار کردیا۔ ہائی کورٹ نے 28 اکتوبر 2018 سے جیل میں بند سدھا بھاردواج کی ضمانت کی عرضی گزشتہ یکم دسمبر کو منظور کرلی تھی۔ ان کی ضمانت کی شرائط طے کرنے کے لیے 8 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی صدارت والی بینچ کے سامنے پیر کو این آئی اے کی جانب سے ‘اسپیشل’ تذکرہ’ کے تحت اپیل پر جلد سماعت کی گزارش کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے سدھا بھاردواج کو ضمانت دینے کے حکم کے خلاف این آئی اے نے 2 دسمبر کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ چھتیس گڑھ میں آدیواسیوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی بھاردواج پر ماو نوازوں کی مدد کرنے کے الزامات ہیں۔ بھیما کورے گاوں تشدد معاملے میں سدھا کے علاوہ ورور راو، سوما سین، مہیش راوت، سدھیر دھاولے ، ورناون گونگا لیوس، سریندر وغیرہ بھی ملزمین میں شامل ہیں تاہم انہیں ضمانت نہیں ملی ہے۔













