وزیر مملکت صنعت و حرفت راجیو چندر شیکھر نے دو بڑے پروجیکٹوں کو لانچ کیا
اس صنعت کو 600کروڑ سے بڑھاکر 6ہزار کروڑ تک بڑھایا جائے گا۔ مرکزی وزیر
مرکزی وزیر مملکت راجیو چندر شیکھر نے آج ”کشمیر کی نمدہ “دستکاری کو وسعت دینے کےلئے 2بڑے پروجیکیٹ لانچ کئے ۔ یہ پروجیکٹ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت بطور پائیلٹ پروجیکٹ لانچ کئے گئے ہیں۔ ان پروجیکٹوں کا مقصد کشمیر کے روایتی نمدہ دستکاری کو فروغ دینا اور محفوظ کرنا ہے اور یوٹی کے مقامی دستکاروں اور کاریگروں کو RPL اسیسمنٹ اور سرٹیفیکیشن کے ذریعے ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ نمدہ پروجیکٹ سے کشمیر کے 6 اضلاع بشمول سرینگر،بارہمولہ، گاندربل، بانڈی پورہ، بڈگام اور اننت ناگ کے 30 نمدا کلسٹرس کے 2,250 لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جبکہ آر پی ایل اقدام کا ہدف جموں و کشمیر کے 10,900 کاریگروں اور ب±نکروں کو تیار کرنا ہے۔نمدہ دستکاری قالین کی طرح ہی ایک مقامی دستکاری ہے جو بنائی کے عمل کے بجائے فلیٹنگ تکنیک کے ذریعے بھیڑ کے اون سے بنایا جاتا ہے ۔ مذکورہ دستکاری خام مال کی عدم دستیابی اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی اور مارکیٹنگ تکنیک نہ ہونے کی وجہ سے 1998سے 2008کے درمیان اس میںکافی کمی آئی اور قریب سو فیصدی یہ دستکاری ختم ہوچکی تھی اس لئے اس دستکاری کو پھر سے بحال کرنے اور اس کو فروغ دینے کےلئے پی ایم کے وی وائی کے تحت اس اس خصوصی پروجیکٹ کے ذریعے، ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (MSDE) اس خطرے سے دوچار ہنر کو محفوظ رکھنے کے لیے مختصر مدتی تربیتی نصاب تیار کیا ہے۔نمدا پراجیکٹ ایک صنعت پر مبنی تربیتی پروگرام ہو گا جس میں نمدا کرافٹس پروڈکشن میں شامل مستفید کنندگان ہوں گے جو کشمیر میں منفرد دستکاری سے وابستہ عمدہ ورثے کے تحفظ اور احیاء میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ اس سے کشمیر میں نمدا کرافٹس کلسٹر کے موجودہ کاریگروں کی رسائی میں بھی بہتری آئے گی اور ان کے روزگار کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔اس پہل کا آغاز کرتے ہوئے، راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ ”ہندوستان کا ایک بھرپور ورثہ ہے اور یہ آرٹ کی کئی روایتی شکلوں کا گھر ہے۔ جموں و کشمیر کے کاریگروں اور بنکروں کی روایتی اور وراثتی مہارتوں کو زندہ کرنا اور ان کو فروغ دینا مودی سرکار کے لیے کی ترجیح ہے۔ اس طرح انہیں معاشی اور سماجی طور پر بھی بااختیار بنایا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں، ہمیں انہیں بین الاقوامی منڈیوں میں نمائش کی پیشکش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ دنیا ہماری متحرک ثقافت سے واقف ہو۔ ‘جب میں نے جموں و کشمیر کا سفر کیا تو جموں و کشمیر کے لوگوں نے اپنی مرضی کے مطابق ہنر مندی کے تربیتی پروگراموں کے ذریعے مقامی معیشت کو فروغ دینے کے لیے مدد مانگی۔ اس نے اسکل ڈیولپمنٹ اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت کو مقامی نوجوانوں کی معاشی امنگوں کو پورا کرنے اور انہیں ترقی کی راہ پر لے جانے کے لیے اس پروگرام کے ساتھ آنے پر آمادہ کیا۔ مجھے یقین ہے کہ مقامی صنعت ہمارے ساتھ آنے سے، ہم قالین کی برآمدات کو 600 کروڑ سے بڑھا کر 6000 کروڑ تک لے جائیں گے اور 8 لاکھ لوگوں کے لیے روزگار پیدا کر سکیں گے۔














