کارروائی جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کے خلاف جاری کریک ڈاو ¿ن کا حصہ۔ پولیس
سرینگر/یکم اکتوبر//پولیس نے یو اے پی اے کے تحت تحریک حریت کا مرکزی دفتر واقع حیدر پورہ سرینگر کو قرق کرلیا ہے ۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کے خلاف جاری کریک ڈاو ¿ن کا حصہ ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق بدگام پولیس نے بدھ کے روز حیدرپورہ کے رہمت آباد علاقے میں واقع تحریکِ حریت (TeH) کے مرکزی دفتر کو ضبط کر لیا۔ یہ کارروائی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون 1967 (UAPA) کی دفعہ 25 کے تحت عمل میں لائی گئی، جو جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کے خلاف جاری کریک ڈاو ¿ن کا حصہ ہے۔یہ دفتر مرحوم علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے زیر استعمال رہا ہے اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق ضبط شدہ جائیداد میں تین منزلہ عمارت شامل ہے جو ایک کنال اور ایک مرلہ زمین پر تعمیر کی گئی ہے، جس کا اندراج خاصرہ نمبر 946 اور کھاتہ نمبر 306 کے تحت ہے۔پولیس نے بتایا کہ یہ عمارت تحریکِ حریت کا مرکزی دفتر رہی ہے، جسے حکومتِ ہند نے علیحدگی پسند نظریات کو فروغ دینے اور عسکریت پسندی میں مبینہ معاونت کے الزامات کے تحت ممنوع قرار دیا تھا۔یہ کارروائی ایف آئی آر نمبر 08/2024 کے تحت کی گئی، جو تھانہ بدگام میں UAPA کی مختلف دفعات کے تحت درج ہے۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران حاصل شدہ شواہد اور قانونی منظوری کے بعد یہ قدم اٹھایا، جسے مکمل قانونی طریقہ کار کے مطابق انجام دیا گیا۔تحریکِ حریت، جو سید علی شاہ گیلانی نے قائم کی تھی، طویل عرصے سے سیکیورٹی ایجنسیوں کی نظر میں رہی ہے۔ اس تنظیم کے ساتھ ساتھ جماعتِ اسلامی اور دیگر کئی تنظیموں کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ان پر عسکریت پسندی سے روابط اور ملک دشمن سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔ پابندی کے بعد تنظیم کے کئی رہنماو ¿ں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، ان کی جائیدادیں ضبط کی گئیں اور UAPA کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔














