مکمل بحالی میں 20 سے 25 دن لگ سکتے ہیں، متبادل راستے پر ٹریفک جزوی طور پر بحال ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ
سرینگر/31اگست//جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کو بذریعہ سڑک سفر کر کے جموں پہنچنے کے دوران اسٹریٹجک اہمیت کی حامل جموں-سرینگر قومی شاہراہ پر جاری بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا۔وائس آف انڈیا کے مطابق اہم 250 کلو میٹر طویل یہ شاہراہ، جو وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد آل ویدر سڑک ہے، گزشتہ چھ دنوں سے مسلسل بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سڑک دھنسنے کے نتیجے میں بند پڑی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، عمر عبداللہ نے ہفتہ کو سرینگر میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کے بعد یہ سفر اس لیے کیا تاکہ بحالی کے کام کی پیش رفت کا براہِ راست جائزہ لے سکیں۔ وزیر اعلیٰ اس سلسلے میں آج شام آنے والے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔مارونگ علاقے میں شاہراہ کے متاثرہ حصے کا معائنہ کرنے کے بعد عمر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے کہا: *”ہم یہاں صورتحال کا جائزہ لینے آئے ہیں۔ مسلسل بارشوں نے مختلف مقامات پر شاہراہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے بتایا ہے کہ ایک متبادل راستہ موجود ہے اور اس پر دو طرفہ ٹریفک کی بحالی کے لیے کام جاری ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکام کے مطابق مکمل بحالی میں 20 سے 25 دن لگ سکتے ہیں، تاہم متبادل راستے پر ٹریفک جزوی طور پر بحال ہو جائے گا۔ ان کے مطابق، اس مرتبہ سب سے زیادہ مشکلات رامبن-بانہال سیکٹر کے بجائے ادھمپور حصے میں ہیں، اور جب تک وہاں مرمت مکمل نہیں ہوتی، ٹریفک کی معمول کی آمدورفت ممکن نہیں۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ بیشتر اندرونی سڑکیں کھول دی گئی ہیں جبکہ تین دیگر راستوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔رامبن کے راجگڑھ تحصیل میں ہفتہ کو آنے والے کلاو¿ڈ برسٹ کا ذکر کرتے ہوئے، جس میں چار افراد جاں بحق اور ایک لاپتہ ہوا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ایکس گریشیا ریلیف منظور کیا گیا ہے۔ *”مقامی ایم ایل اے نے مجھے اس واقعے سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی موقع پر موجود تھے اور ریڈ کراس کے تحت فوری ریلیف تقسیم کیا گیا۔ ہم متاثرین کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔انہوں نے یاد دلایا کہ چند ماہ قبل رامبن میں آنے والے کلاو¿ڈ برسٹ کے متاثرین کو بھی اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ اور ریڈ کراس کے تحت معاونت فراہم کی گئی تھی۔














