مرکز نے جو وعدئے کئے ہیں ان کو پورا کیا جانا چاہئے ۔ طارق قرہ
سرینگر/ریاستی درجے کی بحالی کےلئے احتجاجی مہم کے ایک حصے کے طور پر جموں کشمیر پردیش کانگریس کی جانب سے بھوک ہڑتال جاری ہے اور دوسرے روز جموں میں احتجاجی بھوک ہڑتال شروع ہوئی ۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے کئی سابق وزراءاور قانون سازوں سمیت پارٹی کے درجنوں لیڈروں اور کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے توی پل پر آخری ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمے کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کی۔قررہ نے مہاراجہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایاکہ بھوک ہڑتال ہفتہ کو سرینگر اور جموں میں ایک ساتھ شروع ہونی تھی لیکن جموں میں رکشا بندھن کے تہوار کی وجہ سے اس میں ایک دن کی تاخیر ہوئی“۔انہوں نے کہاکہ بھوک ہڑتال کا مقصد کانگریس پارٹی کی مہم کو تیز کرنا ہے، جو مرکزی حکومت کو جگانے کے لیے جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری ہے۔پی سی سی کے صدر نے کہاکہ ”ہم مہاراجہ کے مجسمے کے قریب جمع ہوئے تاکہ جموں و کشمیر میں ریاست کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں جو ڈوگرہ حکمرانوں کے ذریعہ تشکیل دی گئی ملک کی سب سے بڑی ریاست تھی۔“انہوں نے کہا کہ کانگریس نے حال ہی میں سرینگر اور جموں میں احتجاجی مارچوں کا انعقاد کیا اور بعد میں ریاست کا درجہ حاصل کرنے کی مہم کے ایک حصے کے طور پر ‘دہلی چلو’ کی کال دے کر مہم کو دہلی منتقل کر دیا۔گزشتہ ماہ دہلی سے ہماری واپسی کے بعد، ہم نے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سمیت سول سوسائٹی کی حمایت کو متحرک کرنے کے لیے یکم سے 5 اگست تک ایک آو¿ٹ ریچ پروگرام کا اعلان کیا اور 5 اگست کو جموں و کشمیر کی تنزلی کی چھٹی برسی کو تمام 20 اضلاع میں یوم سیاہ کے طور پر منایا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے بھی مانسون سیشن کے آغاز سے قبل وزیر اعظم کو ایک مشترکہ خط لکھا تاکہ حکومت کو ریاست کی بحالی کے بارے میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جموں کشمیر کے عوام سے کئے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔












