اردو میں ای-پبلشنگ پر مذاکرہ
سری نگر/ نئی دہلی: چنار بک فیسٹیول 2025 میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی اور شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ بعنوان ‘نئی نسل میں ادبی و تخلیقی مہارتوں کی نشوونما’ آج اختتام پذیر ہوا۔ اس اختتامی سیشن میں استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنا اور ان کے تخلیقی سفرکو پرواز عطا کرنا تھا۔انھوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ جو کچھ آپ سوچ رہے ہیں اس پر اعتماد کے ساتھ عمل کیجیے کیونکہ آپ کی سوچ اور آپ کا نقطہ نظر تازہ اوربہتر ہے۔ انھوں نے شرکا سے کہاکہ آپ میں بے پناہ پوٹینشیل موجودہے اور آپ کے درمیان سے ہی کل بڑے لکھنے والے کہانی کار اور تخلیق کار پیدا ہوں گے۔ مہمان خصوصی پروفیسر محمد مبین(وائس چانسلر،کلسٹریونیورسٹی)نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اچھی تخلیق کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے جب تک آپ اچھے قاری نہیں بنیں گے تب تک آپ اچھے تخلیق کار اور کہانی نویس نہیں بن سکتے۔انھوں نے کہاکہ مطالعہ نہ صرف زبان و بیان میں مہارت پیدا کرتاہے بلکہ تخیل کو بھی جلا بخشتاہے اور نئے خیالات کو بھی جنم دیتاہے۔مہمان اعزازی وحشی سعید (ممتاز فکشن نگار و ناقد) کا تحریر کردہ پیغام سلیم سالک (نوجوان ادیب اور ایڈیٹر،کلچرل اکیڈمی،جموں و کشمیر) نے پیش کیا۔ انھوں نے پیغام میں اس ورکشاپ کی تعریف کی اور کہاکہ اس طرح کا ورکشاپ مسلسل ہونا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ملتے رہیں۔ڈاکٹر کوثر رسول (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو،کشمیریونیورسٹی) نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس ورکشاپ میں شرکا نے بڑے ذوق و شوق سے سیشنز میں حصہ لیا اور کہنہ مشق فکشن رائٹرز سے بھرپوراستفادہ کیا۔ مجھے پوری امید ہے کہ نوجونواں نے جو کچھ سیکھا ہے اس کی روشنی میں وہ اچھی اور بہترین کہانیاں لکھیں گے۔اظہار تشکر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی(اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اکیڈمک، این سی پی یوایل) اورنظامت ڈاکٹر راشد مقبول(اسسٹنٹ پروفیسر،میڈیا ایجوکیشن ریسرچ سینٹر،کشمیر یونیورسٹی) نے کی۔
اختتامی اجلاس سے قبل ورکشاپ کی تین نشستیں ہوئیں۔پہلی نشست ’اسٹوری سرکلز ‘ میں شرکا کے ذریعے کہانیوں کی گروپ پیشکش ہوئی۔اس سیشن میں مینٹورس ڈاکٹر نذیر مشتاق (مشہور کہانی کار و میڈیکل ڈاکٹر)،ممتاز انگریزی فکشن نگارڈاکٹر مشتاق برق،مشہور فکشن نگار و ادیب جناب راجا یوسف اور معروف کہانی کار جناب ناصرضمیر شریک ہوئے۔اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر محمد ذاکر (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو،کشمیر یونیورسٹی)نے کی۔دوسرا سیشن ’افسانے کی بیانیہ تکنیک اور ادبی اسالیب: تخلیقی اظہار،ساخت اور اسلوب نگارش کی عملی رہنمائی‘کے حوالے سے ہوئی۔اس سیشن کے اسپیکرس ڈاکٹر مشتاق حیدر(اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو،کشمیر یونیورسٹی)اور پروفیسر منیجا خان (صدر شعبہ انگریزی،اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،اونتی پورہ، کشمیر) تھے۔نظامت کے فرائض سلیم سالک نے انجام دیے۔














