نئی دہلی۔ 9؍اگست۔ ایم این این۔قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈو بھال 18 اگست کو نئی دہلی میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے خصوصی نمائندوں کے طریقہ کار کے تحت بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔اکنامک ٹائمز کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ملاقات میں ممکنہ طور پر سرحدی مسائل، دو طرفہ تعلقات اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی پیش رفت پر توجہ دی جائے گی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وانگ کے ساتھ ڈو بھال کی بات چیت تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) سربراہی اجلاس کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ چین سے تقریباً ایک پندرہ دن پہلے ہوئی ہوگی، جو 31 اگست سے 1 ستمبر تک منعقد ہونے والی ہے۔اس جون کے اوائل میں چین میں ایس سی او ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی میٹنگ کے دوران ان کی بات چیت کے بعد، 18 اگست کی ملاقات دو ماہ میں وانگ کے ساتھ ڈو بھال کی دوسری ملاقات ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ وانگ کا دورہ ہندوستان-امریکہ میں مندی کے درمیان آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ہندوستانی برآمدات پر بھاری محصولات کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بیجنگ کے جاری تجارتی تناؤ کے بیچ یہ دورہ ہورہا ہے ۔بیجنگ نے جمعہ کو پی ایم مودی کی تیانجن چوٹی کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی۔ 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد یہ ان کا چین کا پہلا دورہ ہوگا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، "چین نے وزیر اعظم مودی کا شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن سربراہی اجلاس کے لیے چین میں خیرمقدم کیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تمام فریقین کی مشترکہ کوششوں سے تیانجن سربراہی اجلاس یکجہتی، دوستی اور نتیجہ خیز نتائج کا اجتماع ہو گا۔” ترجمانگو نے اس اجلاس کو ایس سی او کی تاریخ کا سب سے بڑا اجلاس قرار دیا اور کہا کہ یہ "اعلیٰ معیار کی ترقی کے نئے مرحلے” کی نشان دہی کرے گا جس میں "زیادہ یکجہتی، ہم آہنگی، حرکیات اور پیداواری صلاحیت” نمایاں ہوگی۔2001 میں قائم ہونے والا ایس سی او علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور اقتصادی تعاون سے نمٹنے کے لیے چین، بھارت، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کو اکٹھا کرتا ہے۔تیانجن سربراہی اجلاس میں علاقائی استحکام کا جائزہ لینے اور قریبی اقتصادی انضمام کی راہیں تلاش کرنے کی توقع ہے۔پی ایم مودی کا دورہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب نئی دہلی کا مقصد واشنگٹن کے ساتھ تجارتی تنازعات کے درمیان ایشیائی شراکت داری کو مستحکم کرنا ہے۔













