نئی دہلی /موبائل اور الیکٹرانک شعبے میں سدھار لانے سے متعلق فہرست (آر آئی) کے فریم ورک کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ محکمہ امور صارفین، حکومت ہند کی سکریٹری محترمہ ندھی کھارے کو پیش کی ہے۔کمیٹی کی سفارشات کو بہترین عالمی طریقۂ کار کے مطابق تیار کیا گیا ہے، تاکہ صنعت کو جدت طرازی اور کاروبار میں آسانی کے حوالے سے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس فریم ورک کے تحت، اصل سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیاں (او ایم ایمز) ریپیریبلٹی انڈیکس کو معیاری اسکورنگ معیار کی بنیاد پر خود ظاہر کریں گی، جس کے لیے کسی اضافی تعمیلی بوجھ کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ صارفین کے لیے باخبر انتخاب کو ممکن بنانے کے لیے ریپیریبلٹی انڈیکس کو فروخت و خریداری کے مقامات، ای-کامرس پلیٹ فارمز اور مصنوعات کی پیکنگ پر کیو آر کوڈ کی صورت میں واضح طور پر ظاہر کیا جائے۔ریپیریبلٹی انڈیکس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جہاں صارفین اپنے مصنوعات کے ’سمجھدارانہ استعمال‘ کے نظریے کے مطابق اختیارات کا انتخاب کریں، نہ کہ محض ’غیر ضروری کھپت‘ پر انحصار کریں۔ آسان اور بے جھنجھٹ مرمت کے اختیارات کے ذریعے صارفین کو بااختیار بنا کر، محکمہ امور صارفین ایک خود کفیل، پائیدار، اور صارف دوست معیشت کے اپنے عزم کو مضبوط کر رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن (این سی ایچ) پر موصول ہونے والی شکایات کے تجزیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں صارفین کو اپنے موبائل فونز اور ٹیبلٹس کی مرمت کے دوران مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موبائل اور ٹیبلٹس کے مصنوعات کے زمرے میں شکایات میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جو 2022-2023 میں 19,057 شکایات تھیں، 2023-2024 میں 21,020 شکایات ہو گئیں، اور 2024-2025 میں یہ تعداد 22,864 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مرمت کی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانے اور مرمت و بعد از فروخت خدمات سے متعلق معلومات میں شفافیت لانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ستمبر 2024 میں، محکمہ امور صارفین (ڈی او سی اے) نے ریپیریبلٹی انڈیکس (آر آئی) کے فریم ورک کی تیاری کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری جناب بھارت کھیرا، کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔














