نئی دلی/۔پنشن سے متعلق 2025 کی پہلی بین الاقوامی ریسرچ کانفرنس جو نئی دہلی میں منعقد ہوئی، کل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ اس کانفرنس کا افتتاح 3 اپریل کو خزانہ کے وزیر ملکت جناب پنکج چودھری نے کیا۔یہ دو روزہ پروگرام پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، احمد آباد کے اشتراک سے منعقد کیا، جو بھارت میں بڑھاپے کے لیے مستحکم مالی تحفظ کی جانب ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ پلیٹ فارم پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، صنعت کے رہنماؤں، اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک ساتھ لایا تاکہ پنشن اصلاحات کی بدلتی ہوئی صورتحال، ریٹائرمنٹ کے لیے مالی تیاری، اور عمر رسیدہ آبادی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جدید حکمت عملیوں پر غور و خوض کیا جا سکے۔بھارت کی آبادیاتی ساخت میں ایک بڑے اور اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے، وزیر مملکت برائے خزانہ جناب پنکج چودھری نے اپنی کلیدی تقریر میں کہا کہ آنے والی دہائیوں میں بھارت کا آبادیاتی منظرنامہ ایک گہری تبدیلی سے گزرے گا۔ سنہ 2050 تک، ہر پانچ میں سے ایک بھارتی شہری 60 سال سے زیادہ عمر کا ہوگا، اور 2047 تک بزرگوں کی تعداد بچوں سے زیادہ ہو جائے گی۔ وسطِ صدی تک متوقع 19 فیصد بزرگ آبادی—جن میں اکثریت خواتین کی ہوگی—کو مالی خودمختاری فراہم کرنا صرف ایک ہدف نہیں بلکہ ملک کی ایک اہم ضرورت بھی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ’سب کے لیے پنشن‘ کو قومی ترجیح بننا چاہیے، اور اس کے لیے ایسی پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے جو ہماری عمر رسیدہ آبادی کے لیے باوقار اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنائیں۔اپنے خطاب میں، محکمہ مالیاتی خدمات کے سیکریٹری جناب ناگراجو مدّیرا نے کہا کہ بھارت کا پنشن نظام ایک اہم دورِ تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ یونائیفائیڈ پنشن سسٹم کے آغاز اور دائرہ کار کو وسعت دینے کی کوششوں کے ذریعے ہم ریٹائرمنٹ کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کر رہے ہیں۔ یو پی ایس کے تحت سبکدوشی سے قبل 12 ماہ کی اوسط بنیادی تنخواہ کا 50 فیصد بطور یقینی پنشن فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت میں پنشن اثاثے جی ڈی پی کا تقریباً 17 فیصد ہیں، جو کہ او ای سی ڈی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے، جہاں یہ شرح عموماً 80 فیصد سے تجاوز کرتی ہے۔ یہ فرق ریٹائرمنٹ کے لیے تیاری میں نمایاں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔












