کہا، بل پاس ہوا تو وقف بورڈز بے اختیار ہوجائیں گے اور ان پر حکومت کا عملی کنٹرول ہو گا
سرینگر: مرکزی سرکار کی جانب سے وقف ترمیمی بل کو منظوری کےلئے پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے پر اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے اس مجوزہ بل کو شدید الفاظ میں ہدفِ تنقید بنایا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو اس کے نتیجے میں مسلم کمونٹی وقف بورڈز پر اپنا کنٹرول کھودے گی اور یہ ادارے عملی طور پر حکومت کے کنٹرول میں چلے جائیں گے۔ انہوں نے موجودہ قانون (وقف ایکٹ 1995) میں ترامیم کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ مجوزہ قانون سازی مکمل طور پر غیر ضروری ہے۔
سید محمد الطاف بخاری نے مزید کہا، ’’کومت کا دعویٰ ہے کہ اس ترمیمی بل کا مقصد وقف املاک کے انتظام کو بہتر بنانا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ بہتر نظم و نسق اور شفافیت لانے کے اقدامات کی کوئی مخالفت نہیں کرتا ہے۔ لیکن اس کےلئے موجودہ ایکٹ میں ترمیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بغیر بھی ریفارمیشن لائی جاسکتی ہے۔‘‘
اپنی پارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’’ایک بار وقف ترمیمی بل منظور ہو جانے کے بعد، وقف بورڈوں کی جائیدادوں کو متعلقہ ضلع کلکٹرذ کے پاس رجسٹر کرانا لازمی ہوگا، جبکہ وقف بورڈز کے تمام ممبران حکومت کی طرف سے مقرر کیے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح سے کمیونٹی وقف بورڈ پر اپنا کنٹرول کھو دے گی۔ یہ مسلم کمونٹی کے معاملات میں حکومت کی غیر ضروری مداخلت ہے۔‘‘














