بقایا قرضوں میں اندرونی قرضوں کا تناسب66 فیصد،جبکہ جنرل پراویڈنٹ فنڈ کا حصہ 21 فیصد
خزانے میں 5429 کروڑ روپے کے بل زیر التواء:سجادلون کے سوال کے جواب میں انکشاف
سری نگر/حکومت نے ہفتہ کو انکشاف کیا کہ جموں وکشمیر پر1,25.205 کروڑ روپے کا قرض ہے، جس میں گزشتہ مالی سال کےلئے جنرل پراویڈنٹ فنڈ/کے27,900 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔جمعرات کو ایوان میں پیش کی گئی اقتصادی سروے رپورٹ (ESR) 2024-25کے مطابق1,25,205 کروڑ روپے کا بقایا قرض جموں و کشمیر کے 2,38,677 کروڑ روپے کے GSDPکا 52 فیصد ہے۔جے کے این ایس کے مطابق ممبراسمبلی ہندواڑہ سجادغنی لون کے سوال کے تحریری جواب میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ،جن کے پاس وزارت خزانہ کاقلمدان ہے،نے انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر کا کل قرضہ پورٹ فولیو، بشمول اسٹیٹ ڈیولپمنٹ لون،ریزرو بینک آف انڈیا کا قرض، مذاکرات شدہ قرض، نیشنل سیونگ سمال فنڈ (NSSF)، گورنمنٹ آف انڈیا ایڈوانسس، جنرل ایڈوانسس، جنرل ایڈوانسس، جنرل پراویڈنٹ فنڈGPF،ریزرﺅوڈیپازٹ ذخائر، UDAY پاور بانڈز، 1,25,2025 کروڑ روپے کے حیرت انگیز سطح پر کھڑے ہیں۔محکمہ خزانہ کے جواب کے مطابق، اسٹیٹ ڈیولپمنٹ لون(SDL) اورریزرﺅ بینک آف انڈیاRBI کے قرضوں پر کل بقایا69894 کروڑ روپے ہے، اس کے بعد جنرل پراویڈنٹ فنڈGPF کے پاس 27901 کروڑ روپے، ریزرو اور ڈپازٹس میں 14294 کروڑ روپے، نیشنل سیونگ سمال فنڈ (NSSF) کے 5758 کروڑ، گفت و شنید کے قرضوں میں 4032 کروڑ روپے، UDIبانڈز 2616 کروڑ روپے اورگورنمنٹ آف انڈیا ایڈوانسس710 کروڑ روپے ۔جموں وکشمیر حکومت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مختلف آبجیکٹ ہیڈس آف اکاو ¿نٹس کے تحت 27فروری2025تک محکمہ خزانے کو سرکاری ٹریجریوں میں بقایا ذمہ داری 5429.49 کروڑ روپے ہے۔مزید برآں حکومت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ محکمہ PHE کے کل بلا معاوضہ کام کے بل 25 فروری 2025 تک 0.24 کروڑ روپے ہیں۔جمعرات کو ایوان میں پیش کی گئی اقتصادی سروے رپورٹ (ESR) 2024 -25کے مطابق1,25,205 کروڑ روپے کا بقایا قرض جموں و کشمیر کے 2,38,677 کروڑ روپے کے GSDPکا 52 فیصد ہے۔83,010کروڑ روپے کا عوامی قرض مالی سال 2024 میں کل آن بجٹ بقایا قرض کا66 فیصد بنتا ہے، جس میں82,300 کروڑ روپے کا اندرونی قرض اور حکومت ہند کی طرف سے پیشگی 710 کروڑ روپے شامل ہیں۔بجٹ پر بقایا قرض کا ایک اور بڑا حصہ پراویڈنٹ فنڈ ہے، جو کل قرض کا 21 فیصد ہے۔ اقتصادی سروے رپورٹ (ESR) 2024-25کے مطابق پچھلی دہائی کے دوران، کل آن بجٹ بقایا قرضوں میں اندرونی قرضوں کا تناسب55 فیصد سے بڑھ کر66 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کا حصہ27 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد ہو گیا ہے۔قرضہ جی ایس ڈی پی کے فیصد کے طور پر مالی سال 2014 میں47 فیصد سے بڑھ کر مالی سال2024 میں51 فیصد ہو گیا ہے۔














