سرینگر//جموںکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اوربزرگ سیاسی لیڈر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے ملٹنسی تب تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکتی ہے جب تک نہ لوگ اس کے خاتمہ کےلئے مکمل تعاون کریں اور لوگ اس کےلئے خود تیار ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ریاست کادرجہ بحال ہونے سے جموںکشمیرمیں ملٹنسی ختم نہیں ہوگی یہ آج بھی ہے اور تب بھی ہوسکتی ہے ۔ البتہ ہمیں مل کرکام کرنا ہوگا تب جاکر اس کی جڑ ختم ہوسکتی ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ یہاں پر بے روزگاری ہے ، عوامی مسائل ہیں تاہم قیام امن سے ہی تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ وائس آف انڈیاکے مطابق سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کر دیا جاتا ہے، تب بھی ملٹنسی ختم نہیں ہو گی اور اسے عوام کی حمایت کی ضرورت ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست کا مسئلہ کئی سالوں سے موجود ہے۔ ”اگر ریاست کا درجہ بحال ہو جائے اور ہمیں سب کچھ مل جائے گا، لیکن کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے یہاں ملٹنسی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں کہ یہاں عسکریت پسندی ختم ہو گئی ہے، ان سے پوچھیں کہ یہ اب بھی ہے یا نہیں،۔انہوں نے مزید کہا کہ کل صرف دو فوجی ایک دیسی ساختہ بم دھماکے میں مارے گئے "یہ کہاں سے آیا؟ ہمیں جموں و کشمیر میں حالات معمول پر لانے کے لیے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہمیں امن قائم کرنا چاہیے۔ یہاں امن ہی کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارے بچے بے روزگار ہیں۔ جب امن نہیں ہے تو ان مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور کانگریس کے درمیان قبل از انتخاب اتحاد دہلی اسمبلی انتخابات میں مختلف نتائج لا سکتا تھا۔”انڈیا بلاک کی روح اب بھی وہی ہے۔ لیکن دہلی میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر AAP اور کانگریس کے درمیان مناسب سمجھوتہ ہوتا تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ ہمیں ملنا ہے اور ان مسائل پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔














