آج کل کے والدین اپنے بچوں کی جانب اس قدر سنجیدگی سے متوجہ ہورہے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں جتنی بچے کی عمر ہو اس سے زیادہ وہ علم حاصل کرسکے ۔یعنی والدین بچوں پر ناقابل برداشت بوجھ ڈالنے لگے ہیں جس سے وہ آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہی جارہے ہیں اور ہر وقت والدین کے ڈر سے تناوءمیں مبتلا رہتے ہیں ۔تناﺅ کی حالت میںبچہ کس طرح تعلیم حاصل کرسکتاہے اس کا آج کل کے والدین کو ذرا برابر بھی احساس نہیں ہے ۔اس بات کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے پریکشا پر چرچا کے آٹھویں ایڈیشن میں طلبہ اور ان کے والدین کو کچھ نصیحت آموز باتیں بتائیں جن پر عمل کرنے سے بچے بغیر تناﺅ اچھی طرح تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں ۔وزیر اعظم نے تعلیم کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کی منفرد صلاحیتوں کو دریافت کرنا اور اسے اسی میدان میں نکھارنے کے لئے والدین کو اپنے بچے کو تربیت دینی چاہئے تاکہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرسکے اور دنیا میں نام پیدا کرسکے ۔انہوں نے طلبہ ،والدین اور اساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ نمبروں کے بارے میں بچوں پر دباﺅ نہ ڈالیں اور بچوں کی منفرد صلاحیتوں کو پہچان کر ان کو نکھارنے میں مدد کریں ۔اس وقت یہ عام سا رحجان پیدا ہوا ہے کہ اگر بچے نے دسویں یا بارہویں کی جماعتوں میں اچھے نمبرات حاصل نہیں کئے تو والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے کا مستقبل تباہ و برباد ہوگیا ہے ۔جبکہ بقول وزیر اعظم یہ تناﺅ والی بات نہیں اور نہ ہی کسی کو اس بارے میں تناﺅ میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے بلکہ بچے کو یہ فیصلہ خود کرنے دین کہ آج اسے کتنی پڑھائی کرنی ہے ۔اگر بچہ ایسا کرتا ہے تو وہ اس تناﺅ سے دور ہوتا جاے گا جو اس کے اندر پیدا ہوگیا تھا ۔وزیر اعظم نے ایک عمدہ مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ صفائی کی تلقین و تبلیغ کرتے ہیں لیکن گندگی پیدا کرتے ہیں یا پھیلانے کا موجب بنتے ہیں تو آپ لیڈر نہیں بن سکتے اور نہ ہی آپ میں لیڈر بننے کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے ۔جبکہ اس کے لئے صلاحیت ،سمجھداری اور ٹیم ورک کی ضرورت ہے ۔وزیر اعظم مودی نے ایک اور اہم بات بتائی ۔انہوں نے کہا کہ ’آپ احترام کا مطالبہ نہیں کرسکتے ہیں بلکہ آپ کو عزت حاصل کرنی ہوگی اور اس کے لئے خود کو بدلنا ضروری ہے ۔تعلیم ہمہ گیر ترقی کے لئے ہوتی ہے ۔طلبہ کو دیواروں کے اندر قید نہیں رہنا چاہئے ۔طلبہ کو اپنے جذبات دریافت کرنے کے لئے آزادی کی ضرورت ہے ۔لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آج کل کے طالب علم آزادی کا مطلب کچھ اور ہی لیتے ہیں وہ کچھ ایسا کر گذرتے ہیں جس سے نہ صرف ان کے والدین بلکہ پورے خاندان کی ناک کٹ جاتی ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اس خیال کے ساتھ نہیں رہنا چاہئے کہ امتحان ہی سب کچھ ہے ۔ہم روبوٹ کی طرح نہیں رہ سکتے ہیں ہم انسان ہیں اور اسی لئے ہم پڑھتے ہیں ۔آگے بڑھنے کے لئے اپنے ارد گرد اچھے دوست جمع کئے جانے چاہئے تب کہیں جاکر ہم منزل مقصود کو پاسکتے ہیں ۔وزیر اعظم نے طلبہ سے تلقین کی کہ وہ اپنے خیالات کے اظہار کے لئے لکھنے کی عادت ڈالیں ۔ایک استاد کا کام ہے کہ اپنے ہر طالب علم کی منفرد صلاحیتوں کو دریافت کرکے ان کو نکھارنے کی کوشش کریں ۔آخر پر وزیر اعظم نے اساتذہ اور والدین سے کہا کہ اگر” آپ اپنے بچوں کو دیواروں میں قید کرلینگے اور کتابوں کی جیل بنائینگے تو ایسے بچے کسی بھی صورت مین نہ تو پڑھ سکینگے اور نہ ہی آگے بڑھ سکتے ہیں“














