ٹوکن تقسیم کرنے کیلئے 90 سے زائد کاوٹروں پر بے قابو ہجوم جمع ہو گیا
حیدرآباد:۹ جنوری (ایجنسی) آندھرا پردیش کے تروپتی میں ونکٹیشور سوامی مندر کے قریب ویک±نٹھ ایکادشی تہوار کے موقع پر بھگدڑ مچ گئی جس کے باعث 6 عقیدت مند از جان ہو گئے جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ٹوکن تقسیم کرنے کیلئے بنائے گئے 90 سے زائد کاو¿نٹروں پر بے قابو ہجوم جمع ہو گیا۔دس روزہ تہوار کیلئے 10 سے 12 جنوری تک روزانہ ’سرو درشن‘ کے لیے ایک لاکھ 20 ہزار ٹوکن تقسیم کیے جانے تھے۔ آج صبح پانچ بجے ٹوکن کی تقسیم شروع ہونا تھی، مگر عقیدت مند ایک رات پہلے ہی قطاروں میں جمع ہو گئے، جس سے ہجوم قابو سے باہر ہو گیا۔تروپتی کے مختلف مقامات جیسے وشنو نیواسم، شری نیواسم، اور بھودیو کمپلیکس میں ٹوکن کاو¿نٹرز لگائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ستینارائن پورم، بیراگی پٹہ اور رامانائیڈو اسکول میں بھی کاو¿نٹرز قائم کیے گئے۔ تروپتی کے میونسپل کمشنر این موروا کے مطابق، وشنو نیواسم کے قریب بیراگی پٹہ میں ایم جی ایم ہائی اسکول کے ٹوکن کاو¿نٹر پر 4 سے 5 ہزار افراد جمع تھے۔ شام کے وقت صورتحال بگڑ گئی اور دھکم پیل شروع ہو گئی۔ ٹی ٹی ڈی کے چیئرمین بی آر نائیڈو نے بتایا کہ ایک بیمار خاتون کی مدد کیلئے جیسے ہی گیٹ کھولا گیا، ہجوم اچانک آگے بڑھا اور بھگدڑ مچ گئی۔ ہجوم کو قابو کرنے کے ناکافی انتظامات کے باعث حادثہ پیش آیا، جس میں 6 افراد کی موت ہو گئی اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق، ہجوم کو قابو کرنے میں 15 منٹ لگے۔ وزیر اعظم نریندر مودی، اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔













