سری نگر15دسمبر/پی سی سی چیف طاریق حمید قرہ نے اتوار کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں دوہرے کنٹرول سسٹم کو ختم کیا جانا چاہئے ۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں نے کون سے ایسے گناہ کئے ہیں جو انہیں سزا دی جارہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا جس انداز سے یہ لوگ کام کر رہے ہیں ہمیں خدشہ ہے کہ لنگڑی سٹیٹ ہڈ دیں گے۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی اب دوہرے کنٹرول سسٹم کی بات کی ہے اور کانگریس نے روز اول سے ہی اس پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے: ‘آج باقی پارٹیاں بھی ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں جو ایک اچھی بات ہے لیکن کانگریس پہلے سے ہی اس کا مطالبہ کر رہی تھی’۔
مسٹر قرہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں دوہرے کنٹرول سسٹم کو ختم کیا جانا چاہئے تاکہ لوگوں کو مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں دوہرے سسٹم کی وجہ سے ملازمین کو یہ پتہ نہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ یا لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر عملدآمد کریں۔
ان کے مطابق جو کچھ بھی ہو رہا ہے کہ اس کا براہ راست نقصان یہاں کے لوگوں کو ہو رہا ہے۔
طاریق حمید قرہ نے کہاکہ محکمہ پی ڈی ڈی کو یہ پتہ نہیں کہ وہ کس کے تحت آتے ہیں ، بجلی فیس میں ہر تین مہینے کے بعد اضافہ ہو رہا ہے ، کون لوگ اس کو کنٹرول کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے ساتھ ایسا جان بوجھ کر کیا جارہا ہے جس سے یہاں پر بد امنی کا ماحول پیدا قائم ہو ۔
طاریق حمید قرہ کے مطابق جس انداز سے مرکزی سرکار کام کر رہی ہیں ہمیں خدشہ ہے کہ لنگڑی سٹیٹ ہڈ کو بحال کریں گے جو یہاں کے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق اب پارلیمنٹ میں جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ ترمیمی بل لائی جارہی ہے اور ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ترمیمی صورت میں ہمیں سٹیٹ ہڈ کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہوگی۔













