عسکریت پسندوں کے ساتھ مبینہ روابط کا الزام
سرینگر///سرکار نے دو سرکاری ملازمین کومبینہ طور پر ملک دشمن سرگرمیاں انجام دینے عسکریت پسندوںکے لئے کام کرنے کے الزام میں سرکاری نوکریوں سے برطرف کرنے کے احکامات صاد رکئے۔ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیاگیا جسکے مطابق عبدالرحمان نائک جوفارمسٹس کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہاتھا۔سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر عسکریت پسندوںکے لئے اپنی خدمات انجام دے رہاتھا۔پولیس کی جانب سے مذرہ افرا د پرالزام لگایاگیا کہ وہ اگست 2021میں مبینہ طور پر عسکریت پسندو ںکے ہاتھوں مارے گئے شخص غلام حسن لون کی ہلاکت میں ملوث تھااور مذکورہ سرکاری ملازمین کے عسکریت پسندوںکے ساتھ رابطے کی جانکاری بالائی ورکروںکے ذریعے پولیس کوفراہم کی گئی۔ پولیس نے ملازمین کی گرفتاری عمل میں لائی جن کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ او رپوچھ تاچھ کے دوران اس بات کااعتراف کیاکہ وہ حزب المجاہدین کے لئے اپنی خدمات انجام دے رہاتھا اورپاکستان موجود عسکری لیڈروںکے ساتھ اس کاقریبی رابطہ تھا۔ادھرکشتواڑ کے ایک او رسرکاری ملازم جوپیشے کے لحاظ سے استاد تھا عسکریت پسندوں کی اعیانت کررہاتھا ۔پولیس بیان کے مطابق مذکورہ استاد نے تین عسکریت پسندوں محمدامین ریاض احمداور مدثر احمد کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی جسکے بعد اسکی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور فی الوقت وہ کوٹ بلوال جیل میں بند ہے۔ بیان میں پولیس نے کہاکہ مذکورہ استاد نے بھی پوچھ تاچھ کے دوران اعتراف کیاکہ وہ عسکریت پسند وںکے لئے اپنی خدمات انجام دے رہاہیں اور اعترافی بیان دینے ٹھوس ثبوت اکھٹا کرنے کے بعد دونوں ملازمین کو سرکاری نوکری سے آرٹیکل311کے تحت برخواست کرنے کے احکامات صاد رکئے گئے۔














