وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کا ایک مہینہ پورا ہوگیا ہے ۔انہوں نے 16اکتوبر کو اپنے عہدے اور راز داری کا حلف اٹھایا تھا اس کے بعد انہیں باضابطہ وزیر اعلی کا عہدہ سونپا گیا اور بحیثیت وزیر اعلیٰ ان کی حکومت کا ایک مہینہ پورا ہوگیا ہے ۔اس دوران انہوں نے کیا کچھ کیا یہ سب آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔سب سے پہلی ہماری نظر اس قرار داد پر پڑتی ہے جس میں انہوں نے ریاستی درجے اور خصوصی حیثیت کی بحالی جیسا تاریخی قدم اٹھایا ۔نیشنل کانفرنس نے اس حوالے سے جو قرار داد پیش کی ہے اسے ایوان میں ممبران کی اکثریت نے پاس کیا ۔نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ جو جموں کے دورے پر ہیں انہوں نے لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے انتخابی منشور میںعوام سے جو وعدے کئے ہیں ان کو ہرصورت میں عملی جامہ پہنایا جاے گا۔تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران جو کچھ عوام سے کہا گیا تھا اور انتخابی منشور میں دو سو یونٹ مفت بجلی ،بارہ گیس سلینڈراور ڈبل راشن کی فراہمی کے حوالے سے جو اعلان کیا گیا اس کو ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکاہے ۔ڈبل راشن کے حوالے سے لوگ عرصہ دراز سے مانگ کررہے ہیں کیونکہ پانچ چار کلو فی نفر راشن سے لوگوں کا مشکل سے گذارہ ہوتا ہے اسلئے اس اعلان کو سن کر لوگ خوش ہوگئے ۔اس کے ساتھ ہی دو سو یونٹ مفت بجلی اور بارہ سلینڈر وقت کی ضرورت ہے اور حکومت کو چاہئے کہ اس بارے میں فوری طور اعلان کرکے عوام کو راحت پہنچائیں ۔عمر عبداللہ کے چیف منسٹر بننے کے فوراً بعد حکومت نے جو سب سے پہلا عوامی بہبود کا کام کیا وہ نومبر دسمبر تعلیمی سیشن کی تبدیلی کا کیا جس پر طلبہ اور والدین کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم نے بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا ہے ۔کیونکہ مارچ سیشن سے کشمیری طلبہ کا قیمتی وقت ضایع ہوجاتا تھا اور ان کو کسی بھی مسابقتی امتحان میں شامل ہونے میں مشکلات پیش آتی تھیں اور وہ ان امتحانات میں کوئی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے تھے لیکن اب جبکہ نومبر سیشن شروع ہوگیا ہے کشمیری طلبہ کو اب مسابقتی امتحان میں اچھی کارکردگی دکھانے کا بھر پور موقعہ مل سکتاہے ۔یہ ایک عمدہ قدم قرار دیا جاسکتاہے جو عمر عبداللہ کی حکومت نے پہلے ہی مہینے میں اٹھایا ہے ۔ایک سینئیر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اس مہینے کے دوران حکومت نے بجلی کی قلت دور کرنے کے لئے اضافی 300میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں ۔کیونکہ سردیوں کے ایام میں لوگوں کو بجلی کی زبردست قلت کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔اس کے علاوہ موجودہ حکومت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اپنی نقل و حرکت کے لئے گرین کاریڈور قایم کرنے سے گریز کریں ۔اس فیصلے کا مقصد وی آئی پی ٹریفک کی وجہ سے ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنا اور عوام کی سہولیات کو برقرار رکھنا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں نئی دہلی میں قیام کے دوران صدر اور نائیب صدر جمہوریہ کے علاوہ وزیر خزانہ ،توانائی کے مرکزی وزیر اور دوسرے عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران ان کو جموں کشمیر میں بعض اہم نوعیت کے عوامی بہبود پروگراموں کے لئے تعاون طلب کیا جس پر مرکزی وزرا وغیرہ نے عمر عبداللہ کو اس بات کا یقین دلایا کہ جمون کشمیر میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق جتنی بھی پالیسیاں اور پروگرام ہونگے مرکز ان کو عملانے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔













