احتجاجی ہجوم کا وزیراعلیٰ اور دیگر وزراءکے گھروں پر حملہ، کئی اضلاع میں انٹرنیٹ پر پابندی
امپھال: ۷ ۱ نومبر (ایجنسیز)منی پور میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں دس عسکریت پسند وں کی ہلاکت اور ریلیف کیمپ سے چھ افراد کو اغوا کئے جانے کے دو دن بعد ایک خاتون اور دو بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ جس کی وجہ سے منی پور میں ایک بار پھر تشدد کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ منی پور میںایک مشتعل ہجوم نے امپھال وادی میں کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مسلح عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر چھ شہریوں کو اغوا کر لیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ مظاہرین کے ایک ہجوم نے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ کی رہائش گاہ پر حملہ کیا۔ احتجاجی ہجوم وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا ، سیکورٹی اہلکاروں سے جھڑپ ہوئی۔ اس سے قبل پرتشدد ہجوم نے کچھ ایم ایل اے کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی۔ ذرائع کے مطابق امپھال میں مظاہرین نے دو وزراءاور تین ایم ایل اے کے گھروں پر حملہ کیا۔ حکام نے بتایا کہ ہجوم نے صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر سپم رنجن کی لامفیل سناکیتھل میں واقع رہائش گاہ اور امور صارفین اور عوامی تقسیم کے وزیر کے گھر پر مشتعل ہجوم نے حملہ کیا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے کئی اضلاع میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز پر عارضی طور پر پابندی لگا دی ہے۔













