کل یعنی 4نومبر کو جموں کشمیر اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوے لیفٹننٹ گورنر نے بہت سے مسایل و مشکلات اور عوامی فلاح و بہبود کی سکیموں وغیرہ کا احاطہ کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ حکومت عوام کے ساتھ ہے اور ان کے مسایل و مشکلات کو حل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاے گا۔منوج سنہا نے سب سے اہم اور سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال جموں کشمیر کے لئے ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں کہا کہ ”ہمارے لوگ حکومت کی طرف بہت سی امیدوں اور توقعات کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ۔میری حکومت ان امیدوں کو حقیقت میں بدلنے اور ان توقعات کو پورا کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔ریاست کی حیثیت کی واپسی کی امنگ مضبوطہ ہے ۔عزت مآب وزیر اعظم نے کئی موقعوں پر ریاست کی حیثیت کی بحالی کے لئے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے جو لوگوں کے لئے امید کی ایک نئی کرن اور تسلی کا ذریعہ بنی ہے ۔جموں کشمیر کی وزارتی کونسل نے حال ہی میں ریاست کی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوے ایک متفقہ قرار داد منظور کی ہے ۔یہ قرار داد منتخب نمایندوں کی مشترکہ مرضی کی عکاسی کرتی ہے جو لوگوں کی مکمل جمہوری حکمرانی کی بحالی کی امنگوں کی گونج ہے ۔میری حکومت ریاست کی مکمل حیثیت اور ریاست کو حاصل آئینی ضمانتوں کی بحالی کے لئے کوششیں کرے گی ۔یہ جموں کشمیر کے لوگوں کی جمہوری اداروں پر رکھی گئی امیدوں کا مناسب جواب ہوگا۔اس دوران میں تمام تعلق دارون سے درخواست کرتا ہو ں کہ وہ ایک ٹیم کی حیثیت سے مل کر کام کریں اور عوام کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کرنے میں میری حکومت کو مکمل حمایت فراہم کریں“مندرجہ بالا اقتباس منوج سنہا کی اس طویل تقریر سے لیا گیا ہے جس میں انہوں نے ریاستی درجے کی بحالی کے لئے مکمل جانکاری دی ہے ۔اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکز جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کے اپنے عزم پرقایم ہے ۔دوسرا سب سے اہم مسلہ لوگوں کو مفت بجلی کی فراہمی کے بارے میں بھی منوج سنہا نے اٹھایا ۔انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوے کہا کہ ”میری حکومت مستحق گھرانوں کو دو سو یونٹس مفت بجلی فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے ،جس کے لئے طریقہ کار تیار کیا جارہا ہے ۔جموں کشمیر پانی کے وسایل سے بھر پور ہے جو ابھی تک مکمل طور پر استعمال نہیں ہوئے ہیں ۔میری حکومت ان کے مکمل امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے پر عزم ہے تاکہ ان کا اقتصادی فایدہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے اور جموں کشمیر کی مالی حالت کو مستحکم کرے ۔میری حکومت توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت کے لئے حکومت ہند سے تعاون طلب کرے گی ۔3014میگاواٹ کی منظور شدہ صلاحیت کو دوگنا کرنے کے لئے تیز کیا جاے گا۔تاکہ نہ صرف جموں کشمیر بجلی میں خود کفیل ہوجاے بلکہ اس اہم سبز وسایل سے آمدنی بھی پیدا کی جاسکے ۔1818میگا واٹ کے مزید چار میگاواٹ ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبوں پر بھی کام شروع کرنے کے لئے سختی سے پیروی کی جاے گی“ اپنے خطاب میں منوج سنہا نے کہا کہ موجودہ حکومت سب کے لئے مفت ،صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے ۔













