جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور الیکشن کمیشن نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں وہ جہاں ایک طرف اطمینان بخش ہیں وہیں دوسری جانب اس سے اس بات کا بخوبی پتہ چلتاہے کہ واقعی لوگوں کو اس بات کا موقعہ دیا جارہا ہے کہ وہ بلا خوف و خطر اپنے ووٹوں کا استعمال کریں اور اپنے من پسند امیدواروں یا پارٹیوں کے حق میں ووٹ دیں ۔پہلے مرحلے کی ووٹنگ 18ستمبر کو ہورہی ہے ۔30اگست کو نام واپس لینے کی آخری تاریخ تھی اور جن 24انتخابی حلقوں میں ووٹ ڈالے جاینگے ان کے لئے 219امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں کیونکہ الیکشن کمشن نے 244نامزدگیوں کو درست پایا جن میں سے 25امیدواروں نے اپنے نام واپس لئے ہیں۔دوسرے مرحلے کے لئے بھی الیکشن کمشن نے نوٹفیکشن جاری کردی ہے اور 5ستمبر تک کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ مقرر کردی گئی ہے ۔ 6ستمبر کو کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی اور 9ستمبر کو نا م واپس لینے کی آخری تاریخ مقرر کردی گئی ہے ۔الیکشن کمشن نے ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ پانپور انتخابی حلقے میں سب سے زیادہ امیدوار یعنی 14کے درمیان مقابلہ آرائی ہوگی۔دوسری جانب سری گفوارہ ،بجبہاڑہ میں صرف 3امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہونے والا ہے ۔18ستمبر کو ووٹنگ کے پہلے مرحلے کے لئے 24انتخابی حلقوں کے لئے ووٹنگ ہوگی ۔اس دوران 23.27لاکھ سے زیادہ ووٹرز بشمول 5.66لاکھ نوجوان اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرسکتے ہیں ۔ان میں 11.76لاکھ مرد اور 11.51لاکھ خواتین بھی شامل ہیں ۔جبکہ تھرڈ جینڈر ووٹروں کی تعداد 60بتائی گئی ۔پہلے مرحلے کے لئے تصویر بالکل صاف ہوگئی ہے کہ کس حلقے میں کتنے امیدوار میدان میں ڈٹ گئے ہیں ۔ہر ایک امیدوار کو انتخابی مہم چلانے کی آزادی ہے اور امیدوار اپنے حامیوں کے ساتھ گھر گھر مہم بھی چلاسکتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ۔انتخابی عمل کے دوران لازمی طور پر کافی روپے پیسے خرچ ہوتے ہیں ۔اسلئے اخراجات کی نگرانی کے لئے دو مبصرین کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے ۔الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ اخراجات کے حوالے سے مبصرین کے ساتھ رابطہ قایم کرسکتے ہیں ۔امیدوار شکایتیں بھی درج کرسکتے ہیں اس کے لئے ایک مخصوص ایپ کا استعمال کیا جاسکتاہے جس پر امیدوار اپنی شکائیتیں درج کرواسکتے ہیں ۔اس سے ایسا لگتاہے کہ اب کی بار انتخابات کے دوران امیدواروں کو کافی ساری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔تاکہ وہ بلاکسی پریشان یا پرابلم کے اپنی انتخابی مہم چلاسکیں ۔کیمشن نے پہلے ہی اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ہر امیدوار کو علحیدہ سے سکیورٹی فراہم کی جاے گی ۔جس کا مطالبہ امیدواروں کی طرف سے متعدد مرتبہ کیا گیا ہے ۔کمیشن نے امیدواروں کے اس مطالبے کو حق بجانب قرار دیکر اس کے لئے امیدواروں کے خدشات کو محسوس کرتے ہوئے ان کے لئے بہت زیادہ سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ وہ کسی بغیر خوف و ڈراپنی انتخابی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ۔














