Daily Aftab
31 مئی ,2026
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار
  • Edition
    • اردو
    • English
Daily Aftab
ADVERTISEMENT

وادی کشمیر میں بادام کی صنعت روبہ زوال

by Online Desk
26 اگست 2024
A A
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp
ADVERTISEMENT

سری نگر/وادی کشمیر میں گرچہ ایک طرف سیب کی مختلف اقسام کے باغات کا رقبہ ہر گذرتے سال کے ساتھ وسیع تر ہو رہا ہے لیکن دوسری طرف بادام کے باغات اس قدر معدوم ہو رہے ہیں کہ یہ پھل نایاب ہونے کی دہلیز پر ہے ۔ایک اندازے کے مطابق قریب دو دہائی قبل وادی میں 15 ہزار ہیکٹر اراضی پر بادام کے باغ لگے ہوئے تھے جو اب سکڑ کر کئی ہیکڑ رہ گئی ہے یہی وجہ ہے کہ وادی کشمیر میں بادام پھل کی پیدا وار میں کافی کمی واقع ہوئی ہے ۔وادی میں بادام پھل کی پید وار میں کمی واقع ہونے کی جو وجوہات ہیں ان میں زیادہ تر اراضی پر سیب کے ہائی ڈنسٹی اور دیگر اقسام کے باغ لگانے کا رجحان اور تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے کو قرار دیا جاتا ہے ۔چیف ہارٹیکلچر افسر پلوامہ جاوید احمد بٹ نے یو این آئی کو بتایا: ‘کسان اپنی اراضی پر ہائی ڈنسٹی کے سیب باغ لگاتے ہیں کیونکہ اس سے کافی اچھی آمدنی ہوتی ہے گرچہ اس پر خرچہ بھی کافی آتا ہے ‘۔انہوں نے کہا:’بہتر آمدنی کے پیش نظر کسان زیادہ سے زیادہ اراضی پر سیب کے باغات لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں’۔ان کا کہنا ہے :’سیب کی مختلف اقسام دستیاب ہیں جن کو کاشتکار اپنی اراضی پر لگا کر بھر پور کمائی کرتے ہیں’۔موصوف افسر نے کہا کہ محکمے نے بادام کے بھی ہائی ڈنسٹی قسم کو متعارف کیا ہے ۔انہوں نے کہا: ‘یہ باغات بنانے میں خرچہ بھی بہت کم آئے گا اور باغوں کی دیکھ ریکھ پر بھی کم خرچہ آئے گا جبکہ آمدنی تسلی بخش ہوگی’۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مختلف اقسام کے بادام نہیں اگائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ کی مانگ پوری نہیں ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو ہائی ڈنسٹی بادام کے پودے متعارف کئے جا رہے ہیں ان کے لگانے کے خرچے کو ایک عام کسان بھی برداشت کرسکتا ہے ۔پلوامہ سے تعلق رکھنے والے شبیر احمد نامی ایک کاشتکار نے بتایا: ‘ہمارے ضلع میں ہزاروں کنال اراضی پر بادام کے باغات تھے جن کو گذشتہ برسوں کے دوران کاٹ کرسیب کے باغات میں تبدیل کر دیا گیا’۔انہوں نے کہا: ‘مجھے 8 کنال اراضی پر بادام باغ تھا جس کو کاٹ کر میں نے سیب کے باغ میں تبدیل کر دیا لیکن میں اب پچھتا رہا ہوں کیونکہ سیب کے باغ کی دیکھ ریکھ کرنے کے لئے کافی خرچہ آتا ہے اور سال بھر اس کام کے ساتھ مصروف رہنا پڑتا ہے جبکہ بادام باغ بغیر کسی خاص خرچے کے فصل دیتا تھا’۔ان کا کہنا تھا: ‘بادام باغ کی میں زیادہ سے زیادہ ایک بار دوا پاشی کرتا تھا اور پھر ماہ اگست میں جا کر بادام اتارنے جاتا تھا’۔موصوف کاشتکار نے کہا: ‘میں بادام باغ سے بھی اچھی خاصی کمائی کرتا تھا وہ بھی بغیر کسی مشقت کے ‘۔انہوں نے کہا: ‘بادام کا میوہ جہاں کم خرچے پرتیار ہوتا ہے وہیں اس کو سال بھر خراب ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہوتا ہے جبکہ اس کے بر عکس سیب کا پھل درخت سے اتارنے کے بعد ہی خراب ہونے کے خطرے میں رہتا ہے ۔ان کا کہنا تھا: ‘میں نے چھ سال قبل سیب کا باغ لگایا ابھی خرچہ سے تھوڑی زیادہ آمدنی ہوتی ہے ‘۔انہوں نے کہا: ‘ بادام کو پیک کرنے کا عمل بھی آسان اور سادہ ہے ،اتارنے کے بعد کچھ ان کو سُکھایا جاتا ہے اور پھر بوریوں میں بھر کر بیوپاریوں کو بھیج دیا جاتا ہے ‘۔محمد جعفر نامی ایک خشک میوہ فروش نے کہا کہ کشمیر میں تیار ہونے والے بادام اب نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا:’دس سال قبل میرے دکان پر کشمیری بادام بھر پور مقدار میں دستیاب ہوتے تھے اور یہاں کے لوگ اور سیاح بھی ان کو خریدتے تھے ‘۔ان کا کہنا تھا: ‘اب ہمارے دکانوں پر غیر ملکی بادام دستیاب رہتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بادام معیار اور طبی فوائد میں باقی باداموں سے بہتر ہیں۔محمد یوسف نامی ایک بیو پاری نے بتایا: ‘میں بڈگام کے دور افتادہ گاﺅں میں جا کربادام کی بوریاں خرید کر اپنا روزی روٹی کماتا تھا لیکن کسانوں نے بادام کے درختوں کو کاٹ کر وہاں سیب کے باغات تعمیر کئے ‘۔انہوں نے کہا: ‘گرچہ سیب کے باغات لگانے سے ان کو کافی زیادہ فائدہ ہوا لیکن کشمیر کی ایک اہم صنعت کو ختم ہونے کے خطرنات لاحق ہوگئے ‘۔بڈگام کے محمد صادق نامی ایک کسان نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں سینکڑں کنال اراضی پر بادام باغ تھے اور جب ماہ مئی میں ان درختوں پر شگوفے پھوٹتے تھے تو پورا علاقہ جنت کا نظارہ پیش کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس تمام اراضی پر بادام کے درخت کاٹے گئے اور اس اراضی پر یا تو تعمیراتی ڈھانچے تعمیر کئے گئے یا اس پر سیب کے باغ تیار کئے گئے ۔انہوں نے متعلقہ محکمے سے اپیل کی کہ وہ بادام کی صنعت کو بحال کرنے کے لئے ٹھوس اقدام کرے ۔یو این آئی

ADVERTISEMENT

Like this:

Like Loading…

یہ بھی پڑھیے

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

 ایتھنول  ملاوٹ والے ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔  گڈکری

 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا

اسی بارے میں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ
تازہ ترین خبریں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

11 دسمبر 2025
 نتن گڈکری نے ناگالینڈ میں قومی شاہراہ کے 29 پروجیکٹوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا
تازہ ترین خبریں

 ایتھنول  ملاوٹ والے ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔  گڈکری

11 دسمبر 2025
 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا
تازہ ترین خبریں

 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا

11 دسمبر 2025
افریقہ، الیکٹرک  وہیکل  جیسے شعبوں کے لیے  اہم معدنیات کی ہندوستان کی ضرورت کو پورا کر سکتا  ہے۔ یوش گوئل
تازہ ترین خبریں

 نیسٹ02-بلڈنگ اور  کسٹم سہولت مرکز بھارت کی ایکسپورٹ ترقی کو فروغ دیں گے۔ پیوش گوئل

11 دسمبر 2025
 لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای کے لیے 50 ایم بی بی ایس سیٹوں کی منظوری کے لیے  وزیراعظم مودی  اور  وزحر صح جے پی نڈا کا شکریہ ادا کیا
تازہ ترین خبریں

 لیفٹیننٹ گورنرسنہا نے جموں میں دہشت گردی کے متاثرین کے رشتہ داروںکو تقرری خط سونپے

11 دسمبر 2025
حد بندی کمیشن کی رپورٹ بی جے پی کیلئے فائدہ ، زیر حراست صحافیوں کی جلد رہائی عمل میں لائی جائے / محبوبہ مفتی
تازہ ترین خبریں

جموں میں صحافی کا گھر منہدم، پی ڈی پی صدر نے این سی حکومت کو نشانہ بنایا

28 نومبر 2025
ہندوپاک جنگ بندی :وزیر اعلیٰ نے خیر مقدم کیا
تازہ ترین خبریں

بلڈوزر کارروائیاں عوامی حکومت کو کمزور کرنے کی سازش: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

28 نومبر 2025
روس یوکرین امن مذاکرات میں بھارت، چین، برازیل ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پوتن
تازہ ترین خبریں

پوتن کا دورہ بھارت: روس کی جنگی کوششوں اور عالمی سفارتکاری میں تبدیلیوں میں بھارت کی شراکت

28 نومبر 2025
گزشتہ 8 سالوں میں کی گئی ساختی اصلاحات سے بھارت کو دنیا کی تین اعلیٰ معیشتوں میں شامل ہونے میں مدد ملے گی۔ پیوش گوئل
تازہ ترین خبریں

ہندوستان مضبوط آر اینڈ ڈی فریم ورک پر توجہ مرکوز کرے گا

28 نومبر 2025
Next Post
کشمیر میں جنم اشٹمی کا تہوار تزک و احتشام سے منایا گیا

کشمیر میں جنم اشٹمی کا تہوار تزک و احتشام سے منایا گیا

اہم خبریں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

 ایتھنول  ملاوٹ والے ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔  گڈکری

 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

وادی کشمیر میں بادام کی صنعت روبہ زوال
تازہ ترین خبریں

وادی کشمیر میں بادام کی صنعت روبہ زوال

26 اگست 2024
(مالی استحکام کیلئے صنعتوں کا پھیلاﺅ لازمی قرار)
ادارتی

(جنگلوں کا صفایا اور ماحول کی کثافت)

01 دسمبر 2021
 جموںو کشمیر میں یوم آزادی کی تقریبات میں 36.85 لاکھ افراد کی ریکارڈ تعداد میں شرکت
تازہ ترین خبریں

 جموںو کشمیر میں یوم آزادی کی تقریبات میں 36.85 لاکھ افراد کی ریکارڈ تعداد میں شرکت

19 اگست 2023
جموں کشمیر میں کوروناکے108نئے مثبت معاملات سامنے آئے
تازہ ترین خبریں

مثبت نئے232 معاملات سامنے آئے ۔ اَب تک4,44,069مریض صحتیاب

17 فروری 2022
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • اشتہار دینا
  • ہم سے رابطہ کریں

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

No Result
View All Result
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

ہم کوکیز کو مواد اور اشتہارات کو ذاتی بنانے ، سوشل میڈیا کی خصوصیات فراہم کرنے اور اپنے ٹریفک کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Discover more from Daily Aftab

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

%d