نوروزہ ”چنارکتاب میلے“ کے تیسرے دن بھی ہزاروں کی تعداد میں بچوں کی آمد ورفت دیکھی گئی۔اسکولوں اورکالجوں کے طلبہ و طالبات کے ساتھ یونیورسٹیز کے ریسرچ اسکالرز کے جم غفیر نے میلے کو چار چاند لگا دیے۔این بی ٹی کے پہلے سیشن میںجناب اختر حسین نے اپنی کہانیاں سنا کر بچوں کے دل و دماغ کو تازہ کیا۔بعد ازاں جناب کرن سنگھ نے پوٹریٹ اور آرٹ پر بچوں کو اپنی شگفتہ زبان میں پر مغز لیکچر کم حوصلہ بخش الفاظ سے نوازا اور بچوں نے خاکہ نگاری کی پیچیدگیوں کے بارے میں سیکھا ۔کرن سنگھ اپنی بصری فنون کے حوالے سے ملک بھر میں جانے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ماسٹر سنسار چند میموریل چیریٹیبل ٹرسٹ کے بینر تلے قومی آرٹ ورک شاپ کا اہتما م کیا گیا

جس میں درجنوں طلبہ و طالبات نے اپنے ہنر دکھائے۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی تقریبات میں محفل غزل و موسیقی کا انعقاد کیا گیا جس میںشکیل احمد،شیخ عفت نظیر اور سائیمہ نے اپنی خوبصورت آواز میںاستاد مہدی حسن اور غلام علی کا کلام پیش کیا۔بعد ازاں کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں طلبہ و طالبات کے ساتھ سامعین نے شرکت کی اور شفیقہ پروین ،راشد عزیز ،جناب ستیش ویمل ،محترمہ شبنم عشائی اورحسن زرین جیسے شعرا کاکلام سن کر اپنے دلوں کو منور کیا ۔مشاعرے کی صدارت جناب ستیش ویمل نے انجام دی اور ساتھ میں اپنا کلام بھی سنایا۔چنار کتب میلہ میں درجنوں ایسے اسٹالز ہیں جو خصوصاً بچوں کی تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرتے ہیں۔کئی پبلشرز سے انٹرویو بھی لئے گئے ۔انٹرویو دیکھنے کے لئے آپ سب این بی ٹی کے سوشل میڈیا چینلز پر ویزٹ کر سکتے ہیں۔انٹرویوز میں انہوں نے اپنی پبلیکیشنز اور بچوں کی کتابوں کے موضوعات کے حوالے سے تفصیل سے بتایا ہے۔













