چارسو پار کردعویٰ نہیں کیاجس طرح سے لوگ جڑ رہے ہیں یہ جموںو کشمیرکے لوگوںکی اُمیدہے /عمرعبداللہ
سرینگر18/اگست/اے پی آئی ہندوں مسلم سکھ اتحاد کو این سی کانصب العین قرار دیتے ہوئے این سی کے صدر نے کہاکہ جموںو کشمیر میںامن ترقی رواں داری عوامی مسائل کے ازالے مہنگائی کوکم کرنے روز گار کے مواقعے دستیاب رکھنے کے لئے نیشنل کانفرنس کی حمایت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ادھرپارٹی کے نائب صدر نے کرناہ کے سابق قانون ساز کونسل ممبرکی پارٹی میں شمولیت کو خوش آئیندقرار دیتے ہوئے کہاکہ جسطرح سے لوگ پارٹی کے ساتھ جڑ رہے ہیں وہ ا س بات کی عکاسی ہے کہ اسمبلی الیکشن میں جیت کس کی ہوگی ہم نہ چار سوپار کادعویٰ کرتے ہےں او رنہ اگلے وزیراعلیٰ پارٹی کا ہونے کا لوگوں کویقین دلاتے ہیں ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق این سی کے صدر سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹرفاروق عبدالللہ نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے چندلیڈروں کے موقعے پرمنعقد کی گئی تقریب کے حاشئے پرزررائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ این سی رواں داری بھائی چارے ہندو مسلمان سکھ عیسائی بود کی علامت کی رواں دار ہے ۔جموںو کشمیرکے لوگوں کواگر مصائب ومشکلات سے نجات حاصل کرنی ہے مہنگائی کوکم کرناہے روز گارکے وسائل دستیاب رکھنے ہے تو آنے والے اسمبلی ا لیکشن میں این سی کومضبوط کرے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم فرقہ وارانہ ذہنیت کے حقدار نہیں ہیں ہم نے جموں کشمیرمیں محبت برادری اور بھائی چارے کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانی رواں داری کوزندہ رکھناہے ۔انہون نے کہاکئی عناصریہاں لوگوں کو ذاتوں میں تقسیم کرکے اپنے مفادات حاصل کرناچاہتے ہیں او رکئی پارٹیوں کے لیڈر لوگوں کوفریب دیکراپناہم نواں بنانے کی کوشش کرتے ہےں ان کے ان منصوبوں کوہم نے ناکام بناناہوگا ۔ادھرپارٹی کے نائب صدر نے سابق قانون ساز کونسل کے ممبر مرضی عبدالرشید کے پارٹی میں شامل ہونے کو خوش آئیند قراردیتے ہوئے کہاکہ ہم نے کبھی بھی چار سو پار کادعویٰ نہیں کیااو ر نہ ہی ریاست میں پارٹی کوواضح اکثریت حاصل ہونے کالوگوں کویقین دلایاتاہم جسطرح سے لوگ پارٹی کے ساتھ جموںو کشمیرمیں جڑ رہے ہیں وہ اس بات کی عکاسی ہے کہ این سی لوگوں کی واحد امیدبن گئی ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کوہدف تنقید کانشانہ بناتے ہوئے انہوںنے کہا 370کے خاتمے کا ڈھنڈوروہ پیٹنے کے باوجود پارلیمنٹ الیکشن میں240نسشتیں حاصل ہوئی ،جب کہ اب کی بار چار سو پار کادعویٰ کرنے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیاجاتا تھا ۔جموںو کشمیر کے لوگ پچھلے دس برسوںسے طرح طرح کے مسائب سے دو چار ہیں او رآنے والے اسمبلی ا لیکشن کے دوران رائے دہندگان بہترفیصلہ کرینگے ۔













