نئی دلی/۔ہندوستان کے نائب صدر جناب دھنکھر نے آج اعضاء کے عطیہ کی زبردست اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے ‘‘روحانی سرگرمی اور انسانی فطرت کی اعلیٰ ترین اخلاقی مثال’’ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعضاء کا عطیہ عملی سخاوت سے بالاتر ہے جو ہمدردی اور بے غرضی کی داخلی خوبیوں کی ترجمانی کرتا ہے۔جین سوشل گروپس (جے ایس جی) سنٹرل سنستھان، جے پور اور ددھیچی دیہ دان سمیتی، دہلی کے ذریعہ آج جے پور میں جسمانی عطیہ کرنے والوں کے خاندانوں کو اعزاز دینے کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اعضاء کے عطیہ کے لیے شعوری کوشش کریں۔ اسے ایک مشن میں تبدیل کریں جو انسانیت کی خدمت کی عظیم روایت کے مطابق ہو۔اعضاء کے عطیہ کے عالمی دن کے موضوع "آج کسی کی مسکراہٹ کی وجہ بنیں” کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب دھنکھر نے ہر ایک کو اعضاء کے عطیہ کے عظیم مقصد کے لیے ذاتی اور كنبے كی جانب سے عہد کرنے کی ترغیب دی۔اعضاء کے عطیہ میں بڑھتے ہوئے ’کمرشلائزیشن کے وائرس‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جناب دھنکھر نے زور دیا کہ اعضاء کو مالی فائدہ کے لیے نہیں بلكہ معاشرے کے لیے سوچ سمجھ کر عطیہ کرنا چاہیے۔ طبی پیشے کو ایک "خدائی پیشہ” کے طور پر حوالہ دیتے ہوئے اور عالمی وبا كوویڈکے دوران ‘صحت کے جانبازوں’ کی بے لوث خدمات کو اجاگر کرتے ہوئےانہوں نے نوٹ کیا کہ طبی پیشے کے اندر چند افراد اعضاء کے عطیہ کی عمدہ نوعیت کو مجروح کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اعضاء کے عطیہ کو شرپسند عناصر کے تجارتی فائدے کے لیے کمزوروں کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔بے لوث خدمت اور قربانی کی مثالوں سے بھرے ہندوستان کے بھرپور ثقافتی اور تاریخی ورثے کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے ہر ایک پر زور دیا کہ وہ علم اور رہنمائی کے ایک وسیع ذخیرے کے طور پر ہمارے صحیفوں اور ویدوں میں موجود حکمت پر غور کریں۔سیاسی اختلافات کو جمہوریت کی پہچان کے طور پر تسلیم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب دھنکھر نے خبردار کیا کہ ان اختلافات کو کبھی بھی قومی مفاد پر ترجیح نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو جمہوریت کو ماضی خاص طور پر ایمرجنسی کے دوران پیش آنے والے خطرات اور ایسے واقعات سے باخبر كرنے اور انہیں دوبارہ پیش آنے سے روکنے کے لیے چوکسی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔













