گزشتہ 50دنوں میں جموں خطے میں دو فوجی افسران سمیت 10فورسز اہلکار ہلاک ہوئے ہیں
سرینگر///سیکورٹی فورسز نے مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد جموں و کشمیر کے پونچھ اور ریاسی اضلاع کے سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں مشترکہ تلاشی مہم شروع کی ہے۔ ادھر جموں خطہ میں گزشتہ 50 دنوں میں ملٹنسی کے 15 واقعات کے پیش نظر ان کارروائیوں کو ضروری سمجھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دو افسران سمیت 10 سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں گئی ہیں، ساتھ ہی 9 یاتری اور 58 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق حکام نے بتایا کہ اتوار کی صبح پونچھ ضلع کے سلوتری-منگنار فارورڈ علاقے کے قریب لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ کئی علاقوں میں ایک وسیع مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایل او سی کے ساتھ مشتبہ نقل و حرکت کے بارے میں انٹیلی جنس تھی، جس کے بعد فوج، سی آر پی ایف، اور اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کے اہلکاروں کی کافی تعداد میں مختلف علاقوں کا احاطہ کرتے ہوئے مکمل تلاشیاں شروع کی گئیں۔آپریشن اب بھی جاری ہے۔اسی طرح، ریاسی ضلع میں، پولس اور سیکورٹی فورسز نے پونی کے دادویا علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی جب ایک خاتون نے گاو ¿ں کے مضافات میں دو مشکوک افراد کو دیکھنے کی اطلاع دی۔جموں خطہ کے مختلف اضلاع میں مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد گزشتہ پندرہ دن کے دوران درجنوں تلاشی کارروائیاں کی گئیں۔جموں خطہ میں گزشتہ 50 دنوں میں ملٹنسی کے 15 واقعات کے پیش نظر ان کارروائیوں کو ضروری سمجھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دو افسران سمیت 10 سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں گئی ہیں، ساتھ ہی 9 یاتری اور 58 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔













