نئی دلی/۔نائب صدر جمہوریہ جناب جگدیپ دھنکھڑ نے آج میڈیا کی طرف سے محدود اثرات کے واقعات کو دی جانے والی کم توجہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا، جو کہ ٹھوس اور طویل مدتی اقدامات کو زیر کرتے ہیں، جناب دھنکھڑنے اس کے خلاف خبردار کیا ۔ایک ہندی روزنامہ کی قیادت میں پارلیمنٹ میں طلباء کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے میڈیا کے اندر خود شناسی پر زور دیا اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کی ترقی کی داستان پر توجہ دیں۔جانب دارانہ بیانیے کے لیے میڈیا کے کمرشلائزیشن اور کنٹرول پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، جناب دھنکھڑ نے جمہوریت کو برقرار رکھنے میں صحافت کے اہم کردار کو تسلیم کیا۔ جناب دھنکھڑ نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ متعصبانہ خیالات سے اوپر اٹھیں اور سیاسی ایجنڈوں یا قومی مفادات کے خلاف طاقتوں کے ساتھ اتحاد کرنے سے گریز کریں۔’’یہ غور و خوض کرنے کا وقت ہے۔ میں میڈیا سے پوری عاجزی اور خلوص کے ساتھ ملک کی ترقی میں شراکت دار بننے کی اپیل کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اچھے کاموں کو اجاگر کر کے اور غلط حالات اور کمیوں پر تنقید کر کے ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘آئین ساز اسمبلی کی فرض شناسی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، جہاں جمہوری نظریات کا احترام کیا جاتا تھا اور رکاوٹوں پر توجہ نہیں دی جاتی تھیں، نائب صدر جمہوریہ نے پارلیمانی کارروائی میں رکاوٹوں اور سنسنی خیزی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین ساز اسمبلی جمہوریت کا ایک مندر ہے، جہاں ہر اجلاس نے بغیر کسی رکاوٹ یا خلل کے ہماری قومیت کی بنیاد میں اپنا تعاون دیا۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ رکاوٹ اور خلل افسوس سے مستثنات کے بجائے سیاسی ہتھیار بن چکے ہیں۔میڈیا کے اندر خلل کو بڑھاوا دینے کے رجحان پر تشویش کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب دھنکھڑ نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمانی کارروائی کا احاطہ کرنے میں اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ جب رکاوٹیں سرخیاں بن جاتی ہیں اور خلل ڈالنے والوں کو ہیرو کہا جاتا ہے تو صحافت جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے کے اپنے فرض میں ناکام ہو جاتی ہے۔نائب صدر جمہوریہ نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ دنیا کے سامنے ہندوستان کی صحیح تصویر پیش کرنے میں اپنی ذمہ داری کو نبھائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باہر سے لوگ ہندوستان کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے نقطہ نظر سے ہی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں، جو ملک میں کم اور باہر زیادہ، جو ہماری غیر متوقع اور ناقابل تصور پیش رفت کو ہضم نہیں کر پا رہے کہ ہم ایک سپر پاور بن رہے ہیں ۔‘‘














