کولگا میں دو الگ الگ جگہوں پر فوج اور شدت پسندوں کے مابین تصادم آرائیاں
کولگام میں سنیچر کو فوج اور شدت پسندوں کے مابین دو تصادم آرائیوں میں چار شدت پسند اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دونوں جگہوں پر آپریشن جاری ہے اور فوج نے مزید کمک طلب کرتے ہوئے وسیع علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے مدر گام میں سنیچر وار کو ایک فوجی اہلکار جنگجو مخالف آپریشن کے دوران زخمی ہوا جس کو اگرچہ ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ یہ تصادم سیکورٹی اہلکاروں اور فوج کی ایک تلاشی مہم کے دوران پیش آیا۔ علاقہ میں تلاشی مہم اب بھی جاری ہے۔ادھر چنی گام کولگام میں جاری تصام آرائی میں 4شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے تاہم ابھی تک ان کی شناخت ظاہر نہیں ہوئی ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ مہلوک عسکریت پسندوں کی شناخت کاکام جاری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ علاقے میں آپریشن ابھی جاری ہے اور علاقے کو پوری طرح سے گھیر لیا گیا ہے۔ خفیہ اِنپٹ کی بنیاد پر فوج اور پولیس نے مل کر یہ تلاشی مہم شروع کی تھی جس میں ایک فوجی جوان از جان ہو چکا ہے۔دوسرے انکاونٹر کے بارے میں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ ٹیم نے چنی گام میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔افسر نے بتایا کہ جیسے ہی فورسز کی مشترکہ ٹیم مشتبہ مقام کی طرف پہنچی، چھپے ہوئے مسلح افراد نے فورسز پر فائرنگ کردی، جس سے مسلح تصادم شروع ہوگیا۔دریں اثناءایک اعلیٰ پولیس افسر نے بھی مسلح افراد اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کی۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے فوج نے کئی آپریشن کو انجام دیے ہیں۔ تصادم میں کئی دہشت گرد اور شورش پسند افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی کئی آپریشن کو انجام دیا گیا تھا۔ تقریباً 10 دن قبل ڈوڈہ میں سیکورٹی فورسز نے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان سبھی کا تعلق پاکستان سے بتایا گیا۔ ان کے پاس سے کثیر مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا تھا۔














