نئی دلی/ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف لالن سنگھ نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں مویشیوں کی 21ویں مردم شماری کی تیاری کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹیز) کو حکمت عملی بنانے اور بااختیار بنانے کے لیے ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل اور جناب جارج کورین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مویشیوں کے اعداد وشمار جمع کرنے کے لیے تیار کئے گئے موبائل ایپلی کیشن کو بھی مرکزی وزیر نے ورکشاپ میں لانچ کیا۔مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے ہندوستان کی معیشت اور خوراک کی یقینی فراہمی کے لیے مویشیوں کے شعبے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مردم شماری کی محتاط منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد پر زور دیا، اس بات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جمع کئے گئے اعداد وشمار مستقبل کے اقدامات کی تشکیل اور اس شعبے میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ اس ورکشاپ کا مقصد ستمبرسے دسمبر 2024 کے دوران ہونے والی آئندہ مردم شماری کے لیے مربوط اور مؤثر طریقہ کار کو یقینی بنانا ہے۔پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے ورکشاپ سے خطاب کیا اور بنیادی سطح پر جامع تربیت اور صلاحیت سازی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس طرح کی کلیدی ورکشاپ کے انعقاد میں محکمہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی سمجھ اور صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے تربیتی اجلاس میں سرگرمی سے حصہ لیں۔جناب جارج کورین نے مویشیوں کے شعبے میں پائیدار طور طریقوں کے انضمام پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مردم شماری کے اعداد و شمار پائیدار ترقی کے اہداف کے قومی اشارئیے کے فریم ورک میں تعاون کریں گے، اس طرح وسیع تر قومی اور عالمی پائیداری کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے۔














