بڈگام//۔بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی ؒ کی 35ویں برسی کی مناسبت سے انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام میں اتحاد بین المذہب کانفرنس منعقد ہوئی کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام اللہ سے ہوا جس کی سعادت حافظ معراج حسین صوفی نے حاصل کی اور نعت شریف شاہد حسین نے پیش کیاجن معززین نے اتحاد بین المذاہب کی اہمیت و ضرورت کے حوالے سے اظہار خیال کیا ان میں نمایندہ میرواعظ کشمیر مولانا سید شمس الرحمان،نمائندہ مفتی اعظم ڈاکٹرتوصیف احمدوانی ،مولانا خورشید قانونگو،حجت الاسلام والمسلمین شیخ بشیر شاکری صدر امام خمینی میموریل ٹرسٹ کرگل، سجاد حسین کرگلی نامور سماجی کارکن،نرندر سنگھ خالسا چئیرمین سکھ انٹرلئکچول سرکل،محترم پاسٹر پال عیسائی مذہبی رہنما ،ڈاکٹر جان فلپس عیسائی مذہبی رہنما،آئی ڈی کاجرویا سوشل پولٹیکل ایکٹویسٹ، میر شاہد سلیم نمایندہ یونائٹڈ الائنس کے، جموں و کشمیر کرسچن سبا کے پریزیڈنٹ آشو پتر ماتو،شامل ہےکانفرنس کی نظامت حجت الاسلام سید ارشد حسین موسوی نے کی استقبالیہ کلمات میں حجت الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے کہا آج جہاں فلسطین و غزہ کے شہروں کو مسمار کیا جارہا ہے وہاں یہ بین المذاہب کانفرنس کافی اہمیت کی حامل ہے جس میں تمام مذاہب اپنے دین کے حوالے سے امن کا پیغام دیتے ہیں تاکہ امریکہ و اسرائیل جیسے ظالموں کے جرائم کا پردہ فاش ہوسکے مقررین نے مذہبی منافرت کو عالم بشریت کے لئے سب سے بڑا چلینج قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا کے تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات انسانیت اور انسانی اقدار کی پاسداری کرنا سکھاتی ہیں، کوئی بھی مذہب انسانوں کے درمیان نفرت کا روا دار نہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ مذاہب کے اس مشترکہ نصب العین کو بالائے طاق رکھ کر اعتقادی اختلافات کو ہر دور میں ترجیح دی گئی جس سے ہمیشہ عالمی امن انسانی اخوت اور انسانی اقدار کو زبردست نقصان پہنچا مقررین نے کہا کہ مذاہب کے درمیان رقابتوں کی راہ و روش کے تباہ کن نتائج تاریخ کے ان مٹ باب بن چکے ہیں جن سے عبرت حاصل کرکے دنیائے انسانیت کو اتحاد بین المذاہب کے لئے سنجیدگی سے مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کرہ ارض تمام انسانوں کے لئے ایک محفوظ جگہ بن سکےانجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بانی انقلاب حضرت امام خمینی ؒ کی طرف سے اتحاد بین المذاہب کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی ؒ ادیان عالم کے احترام اور تقدس کے قائل تھے اور چاہتے تھے کہ تمام مذاہب کے اکابرین کے درمیان انسانی اخوت کی بنیاد پر رابطے استوار ہوں، انہوں نے کہا کہ موجودہ مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں مذہب کے نام پر نفرت اور تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں، اس موقعہ پر آغا صاحب نے رفا میں ظلم کی داستان پر بات کرتے ہوئے کہاں جہاں تمام ادیان امن و آشتی کا درس دیتے ہیں وہی امریکا و اسرائیل مجرمانہ کاروائیوں سے باز نہیں آتے یہ کانفرنس بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی ؒ کو ان کے یوم وصال پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور امام خمینی ؒکے نصب العین سے وفاداری کا تجدید عہد کرتی ہے یہ اجتماع دور حاضر کے انتہائی سنگین، پرآشوب حالات، مذہبی منافرت، تشدد اور انسانیت سوز کاروائیوں اور بے گناہ و معصوم لوگوں کی قتل و غارت پر شدید فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کے رجحانات کی پر زور مذمت کرتا ہے، یہ اجتماع تمام مذہب کے پیروکاروں سے انسانیت کے نام پر دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ ہم سب ایک آدم کی اولاد ہیں اور انسانیت کا رشتہ ہی سب سے بڑا رشتہ ہےاس لئے ہمیں موجودہ تکلیف دہ حالات کے تناظر میں انسانیت، محبت، مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے عظیم پیغام کو عام کرنے کے لئے تجدید عہد کرنا چاہئے آغا صاحب نے میر واعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق صاحب کے جمعہ بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نےجیلوں میں بند نوجوانوں کی رہائی مطالبہ اور طاقت کی پالیسی کو ترک کرکے مسائل کے حل کے لیے حقیقت پسندانہ انداز اپنانے کامطالبہ حکومت سے کیا آغا صاحب نے کہا اس کانفرنس میں میر واعظ صاحب خود تشریف لاتے لیکن صبح انہیں پھر سے نظر بند کیا ہے جو کہ قابل مذمت قدم ہے۔














