اسلام آباد//۔پاکستانی فوج اور فضائیہ چین مخالف تحریک کو کچلنے کے لیے بلوچستان اور خیبر میں اپنے لوگوں پر بمباری کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر نیپال کورسپونڈنس ہینڈ ل کے ایک تھریڈ میں دعوی کیا گیا ہے کہ وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پاکستان کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ بیجنگ نےاسلام آباد سے آپریشن ضرب عضب2 شروع کرنے اور پاکستان اور چین کے خلاف بلوچ اور پشتون تحریک کو کچلنے کے لیے کہا ہے۔اسلام آباد کو زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے، آئی پی پیز کی واضح ادائیگیوں اور ML-1 کو مرحلہ وار طریقے سے شروع کرنے اور چینی مالیاتی اداروں کے خدشات دور کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ نیپال کورسپونڈنس کے مطابقچین نے یہ مطالبات وزیر اعظم شہباز شریف کے 04-07 جون 2024 کے بیجنگ کے طے شدہ دورے سے عین قبل کیے ہیں، بدلے میں چین نے پاکستان کو سی پیک کے دوسرے مرحلے، بجٹ مالی سال 2024-25 اور ری شیڈولنگ کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون کا لالچ دیا ہے۔ اپنے بجلی کے منصوبوں کے قرضےحال ہی میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی نے چین کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے چینی حکومت کے مختلف اعلیٰ حکام بشمول نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ نائب وزیر خارجہ نے ورکنگ لنچ کا اہتمام کیا اور نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن (NEA) کے سربراہ نے پاکستانی وفد کے لیے ضیافت کا اہتمام کیا۔ وائس چیئرمین نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (NDRC) نےایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا؛ اور ایگزم بینک اور سائنوسر کے صدور سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کی گئیں۔ تھریڈ میں کہا گیا ہے پاکستان چینی آئی پی پیز کے 500 بلین روپے کا مقروض ہے۔ وزیر اعظم نے پہلے ہی وزیر خزانہ کو ان بھاری ادائیگیوں کا حل تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔جہاں تک سیکورٹی کا تعلق ہے، سن ویڈونگ نے پشتونوں اور بلوچوں کے خلاف ایک اور ضرب عضب کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انہیں ہمیشہ کے لیے کچل دیا جا سکے۔ یہ مطالبہ چین کی جانب سے سوات کے قریب خودکش حملے میں اس کے شہریوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔ پاکستانی حکومت سے بھی حملے میں جان کی بازی ہارنے والے چینی شہریوں کے ورثاء کو 2.58 ملین ڈالر کا معاوضہ کی ادائیگی کا کہا گیا ۔ تاہم پاکستانی حکومت نے ان لوگوں کے لواحقین کو کبھی کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جنہیں پاکستانی فوج نے اب تک مارا ہے۔














