نئی دلی/ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ ہندوستان کی خلائی معیشت بڑھ رہی ہے، خاص طور پر پچھلے تقریباً دس سالوں میں اور اس سے بھی زیادہ پچھلے پانچ سالوں میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی متحرک قیادت میں یہ بہت پروان چڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیس سیکٹر کے کھلنے، اسپیس اسٹارٹ اپس اور صنعت کے روابط کے ابھرنے کی وجہ سے، ہندوستان کی خلائی معیشت آنے والے سالوں میں 100 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جیسا کہ غیر ملکی تجارتی ماہرین نے اندازہ لگایا ہے جو ہندوستان کی کوانٹم لیپ سے حیران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہندوستان کے سفر میں سائنسی تبدیلی میں پچھلے دس سال ایک واٹرشیڈ مدت رہے ہیں اور جہاں تک اسپیس اینڈ جیو اسپیس اور پورے ایکو سسٹم کا تعلق ہے، یہ پچھلے پانچ سالوں میں اور بھی زیادہ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جیو اسپیشل ٹیکنالوجی اور ایپلی کیشنز پر صلاحیت سازی کے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے یہ بات کہی، جس کا اہتمام اسرو اور کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن (سی بی سی( نے مشترکہ طور پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیا تھا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ پروگرام اور ایس وی اے ایم ٹی وی اے لینڈ میپنگ میں جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔خلائی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ہندوستان کی مجموعی معیشت کا زیادہ سے زیادہ حصہ بنتی جا رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کی ترقی کی معیشت میں مجموعی طور پر ویلیو ایڈیشن میں اس کا یہ کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ریسرچ، اکیڈمیا، اسٹارٹ اپ اور انڈسٹری کے درمیان مزید ہم آہنگی کا مطالبہ کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسرو، ایک اہم ایجنسی ہونے کے ناطے، اس پہل کرنے کے لیے مناسب طور پر آگے آیا ہے۔ یہ ’پوری سائنس، پوری قوم‘ کے نقطہ نظر کو حاصل کرنے کی ایک بڑی کوشش بھی ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جیو سپائٹل ٹیکنالوجی اور اس کی ایپلی کیشنز پر صلاحیت سازی کا پروگرام بیداری پیدا کرے گا اور نوجوانوں کو اس کا وسیع استعمال کرنے کی ترغیب دینے میں مدد کرے گا۔ہمیں اس طرح کی صلاحیت سازی کے پروگراموں کی زیادہ کثرت سے، زیادہ وسیع پیمانے پر ضرورت پڑسکتی ہے۔ لیکن کم از کم آج سے ہم نے اس کی اہمیت کو محسوس کیا ہے، ہم نے اسے ادارہ جاتی بنانے کی کوشش کی ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انو سندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن اس پورے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم ضمیمہ ہوگا۔













