بچوں کےلئے Covaxinٹیکہ لگانے کو منظوری ملنے کے تناظر میں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ بچوں کی ٹیکہ کاری سے سکول کھولنے کی راہ ہموار ہوگی ۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ کووڈ ویکسین دینے سے بچوں کو اپنے کلاس روموں میں جانے میں اہم رول اداکرے گا۔ بیان کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بچوں کو ٹیکہ دینے سے سکول دوبارہ کھولنے کےلئے بہت ضروری ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ بچوں کےلئے Covaxinکی منظوری کے بعد بچوں کےلئے ٹیکہ کاری مہم چلانے کےلئے اقدامات اُٹھائے جانے چاہئے کیوں کہ بچوں کی ٹیکہ کاری سے سکول دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہوگی اور بچوں کو کلاس روموں میں جانے میں ٹیکہ کاری اہم رول اداکرے گی ۔ انہوںنے کہا کہ کووڈ 19کی وجہ سے لمبے عرصے تک سکول بند رہنے کی وجہ سے ہر سطح پر ایجوکیشن متاثر ہوئی ہے ۔ ڈاک صدر کا مزید کہنا ہے کہ سکول بند رہنے کے نتیجے میں نہ صرف بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے بلکہ اس سے بچوں کی سماجی اور ذہنی نشونما ءبھی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اب ہمارے پاس ویکسین ہے جس سے بچے سکول واپس جاسکتے ہیں اور بچوں کی ٹیکہ کاری سے سکول بچوں کےلئے محفوظ ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی کمیٹی نے بھارت بائیٹک کے Covaxinکو بچوں کےلئے ہنگامی طور پر منظوری دی ہے ۔ اور یہ ویکسین 2برس سے 18برس تک کے بچوں کو دی جاسکتی ہے اور یہ ویکسین بچوں کےلئے محفوظ قراردی گئی ہے جس سے بچوں کو کووڈ19سے دور رکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دیکھا گیا ہے کہ بچوں میں وائرس آنے کے بعد انہیں معمولی بیماری لگ جاتی ہے تاہم بچے وائرس کو بڑی تیزی کے ساتھ دوسروں تک پھیلاسکتے ہیںاور بچوں کی ٹیکہ کاری کے بغیر کوروناوائرس کو ہرانا ناممکن ہے ۔ ہم زیادہ بہتر قوت مدافت تب تک حاصل نہیں کرسکتے ہیں جب تک نہ بچوں کو ٹیکہ لگایا جاسکے اور بہتر قوت مدافت تب ہی حاصل کی جاسکتی ہے جب زیادہ سے زیادہ آبادی کوٹیکے لگائے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کمونٹی میںبہتر قوت مدافت پیدا کرنے کےلئے ہمیں 80سے 90فیصدی آبادی کو ویکسین دینا لازمی ہوگااور آبادی کاایک بڑا حصہ بچوں پر مشتمل ہے ۔ ڈاک صدرنے کہاکہ جموں کشمیر میں 4.8ملین بچے ہیں جو مجوعی آبادی کا 38.4فیصدی ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہاکہ بچوں کی ٹیکہ کاری سے نہ صرف بچے وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اس سے آبادی کا ایک بڑا حصہ ٹیکہ کاری کے زمرے میں آئے گا۔














