سرینگر/ٹماٹر کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اگرچہ مارکیٹ میں قدرے ٹھہراﺅ آیا ہے اور اب ٹماٹر کی نئی پیداواری کھیپ بازارو ں تک پہنچنے کی وجہ سے قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم سرینگر شہر کے بازاروں میں متعدد مقامات پر اسے مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے ۔سرینگر کے لالچوک ،بٹہ مالو،لال بازار اور چھانہ پورہ علاقوں میں100سے120روپے فی کلو ٹماٹر اب بھی فروخت کئے جارہے ہیں جس پر عام صارفین پریشانی کااظہار کررہے ہیں ۔اس دوران محکمہ امورصارفین کے چیکنگ سکارڑ بھی بازاروں میں نظر نہیں آرہے ہیں اور بلا وجہ گراں فروشی کی روش کو کنٹرول کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا جارہا ہے ۔خبررساں ایجنسی ٹی این این کے پاس شہر سرینگر کے مختلف بازاروں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کئی بازاروں میں اب بھی ٹماٹر 120روپے سے زائد قیمت پر فروخت کئے جارہے ہیں حالانکہ ملکی سطح پر اب یہ سبزی 70روپے فی کلو سے بھی کم میں فروخت ہونے لگی ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں اس وقت مقامی پیداوار بھی مارکیٹ میں آرہی ہے اس لئے ٹماٹر سپلائی کی کوئی قلت پیدا نہیں ہورہی ہے ۔محکمہ زراعت کے ایک اعلی آفیسر نے ٹی ای این کو بتایا کہ اس وقت ٹماٹر کی مقامی پیداوار مارکیٹ تک آرہی ہے اس لئے مہنگائی کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے ۔اس دوران بیرونی منڈیوں میں بھی ٹماٹر کی قیمتیں کم کردی ہیں اور وہاں حالات معمول پر آنے لگے ہیں ایسے میں شہر سرینگر کے بازاروں میں کیوںکر ٹماٹر120روپے سے زیادہ قیمت پر فروخت کئے جائیں ۔ایک مقامی شہری وسیم احمد نے بتایا کہ انہوں نے آج صبح صفاکدل علاقے میں 110روپے فی کلوٹماٹر خریدا اور یہی حال لالچوک اور دوسرے علاقوں کا بھی ہے ۔چھانہ پورہ کے ارشد احمد نے بتایا کہ انہوں نے گذشتہ روز 120روپے فی کلو ٹماٹر خریدے۔ایسا کیوں ہے ۔اگر حکومت اور سبزی منڈی ایسوسی ایشن کہتی ہے کہ اب ٹماٹر70روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کئے جانے چاہیں تو یہاں ابھی قیمتیں قابو میں کیوں نہیں آرہی ہیں ۔عوامی حلقے اس صورتحال پر محکمہ امورصارفین کو بھی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا مکلف ہے تو وہ ٹماٹر کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے اور گراں بازاری کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کررہا ہے ۔محمد شعیب نامی ایک تاجر کا کہنا تھا کہ محکمہ امورصارفین کے چیکنگ سکارڑ ماضی میں گوشت بیوپاریوں کیخلاف نظر آتے تھے اور اب چونکہ وہ کام بھی ان سے ڈھنگ سے نہ ہوسکا تو اب ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کے دام کیسے کنٹرول کئے جائیں گے ۔اس حوالے سے ٹی ای این نے محکمہ امورصارفین و عوامی تقسیم کے ناظم اور شعبہ انفورسمنٹ سے رابطہ کیا تاہم کوئی جواب نہیں ملا ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ امورصارفین سبزیوں کی قیمتوں کو بھی کنٹرول نہیں کر پارہا ہے تو سبزیاں بھی گوشت کی طرح ڈی کنٹرول کردی جائےیں اور صارفین کو مارکیٹ کے رحم وکرم پر چھوڑا جائے ۔












